تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 187
JAM حکومت کے اس قیام املاک او می دیدی گئی تا کہ اسے ماخلت فی الدین کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا گیا۔خانہ خدا پر کسی سلطنت کا کوئی قانون لاگو نہیں ہو سکتا مساعد حکومت کے قوانین سے مستثنیٰ ہوا کرتی ہیں ؟ لے اس پر حکومت پنجاب نے اعلان کیا :۔" یہ بالکل غلط ہے کہ سرکاری احکام کسی قسم کے مذہبی اجتماعات یا ذہبی عبادات یا مساجد میں کسی مذہبی سرگرمی میں مخل ہوتے ہیں۔اگر کوئی شخص قانون کے خلاف کوئی حرکت کرتا ہے تو اس سے یقینا مواخذہ کیا جائے گا قطع نظر اس سے کہ اس سے یہ حرکت مسجد میں سرزد ہوئی ہے یا مسجد سے باہر سے احرار حکومت کی اس کشمکش سے عوام میں یہ سوال خود بخود اُبھر آیا کہ کیا حکومت پنجاب نے ایسا حکم دے کر واقعی مداخلت فی الدین کا ارتکاب کیا ہے یا وہ اس کی شرعاً میانہ ہے۔سید نا حضرت امیرالمومنین المصلح الموعود نے اس اہم فقہی مسئلہ پر راہنمائی کے لئے حسب ذیل مضمون سپر و فیلم فرمایا :- آج کل یہ سوال بڑے زور شور سے پیدا ہے کہ آیا حکومت کسی ایسے معاملہ میں دخل دے سکتی ہے جس کا فیصلہ یا جس کا انعقاد کسی مسجد میں ہوا ہو۔اور آیا حکومت اگر ایسا کرے تو یہ تداخل فی الدین ہوگا یا نہیں ؟ اس سوال کے دو پہلو ہیں۔اول تو یہ کہ کیا مساجد میں منعقد ہونیو الے جلسوں یا مساجد میں کئے گئے فیصلوں یا مساجد کی پناہ میں آنے والے لوگوں کو اسلامی شریعت نے قانون سے بالا سمجھا ہے۔دوسرے یہ کہ کیا عقلاً یہ بات قابل قبول اور قابل عمل ہے ؟ ان دونوں سوالوں کے جواب میں لیکن یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ تو بہ میں کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حکومت وقت یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لئے ایک مسجد تیار کی تھی اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ه آزاد لاہور ۳۰ جون ۱۹۵۲ ء ص بحواله الفضل ۶ جولائی ۱۹۵۲ء ه آفاق" لاہور ۳۔جولائی ۱۹۵۲ء بحوالہ افضل ۳ جولائی ۱۹۵۲ء حث