تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 186 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 186

۱۸۳ پڑی۔کچھ عرصہ سے صوبہ میں مجلس احرار اور احمدیوں کے درمیان مناقشت نے پبلک جلسوں میں اشتعال انگیز تقاریر کی ناگوار صورت اختیار کر لی ہے۔ان تقریروں میں اکثر مذہبی بحث و مناظرہ کی تمام جائز حدود کو نظر اندازہ کر دیا گیا اور ان تقریروں سے زیادہ تر پاکستانی شہریوں کے دوطبقات کے درمیان نفرت اور کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔اس طرح ماحول میں جو کشیدگی پیدا ہوئی اسکے باعث چند مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے جن سے بھائی نقصان اور دوسرے نی ایت افسوسناک نتائج بر آمد ہوئے۔۔۔۔امن عامہ بر قرار رکھنے کے اولین فریضہ کا خیال کرتے ہوئے حکومت اس صورت حال کے بھاری رہنے کی اجازت نہیں دے سکتی تھی خصوصاً اس خطرہ کے پیش نظر کہ اگر تشدد کے لئے بالواسطہ اور بلا واسطہ اشتعال انگیزیوں کا مؤثر سد باب نہ کیا گیا تو حالات اور بھی ابتر ہو جائیں گے اور آبادی کے دو حصوں میں کھلم کھلا زبر دست تصادم شروع ہو جائینگے۔نفرت انگیزی کے اس ماحول میں بعض لوگوں کے ذہنوں کی افتاد کیا ہو گئی ؟ اس کی مثال ایک پوسٹر سے ملتی ہے جس کی کاپیاں متعلقہ جماعتوں میں سے ایک جماعت کے دفتر سے دستیاب ہوئی ہیں اس پوسٹر میں اعلانیہ تلقین کی گئی ہے کہ دوسری جماعت کے مبلغوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی مساجد پر جبراً قبضہ کر لیا جائے۔اس پوسٹر میں ایک طبقہ کے مزار عین سے بھی کہا گیا ہے کہ دوسرے طبقہ سے تعلق رکھنے والے جاگیرداروں کو بٹائی بھی نہ دیں۔۔۔اور ان کی جائداد کی ضبطی کو ایک جائز اقدام تصور کریں۔ان حالات میں ضروری تھا کہ حالات کو ابتر ہونے سے بچایا جاتا چنانچہ پبلک جلسوں پر پابندی عائد کرنا ضروری سمجھا گیا تا کہ دونوں میں سے کوئی جماعت باہمی مناقشت کو جاری نہ رکھ سکے۔حکومت اس ضمن میں اس امر کی پوری وضاحت کر دینا چاہتی ہے کہ اس نے پوری پوری احتیاط کی ہے کہ یہ احکام کسی جگہ بھی عوام کی جائہ مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت یا ایسی دیہی مر گیا پر معمولی سی پابندی عائد کرنے کے طبی موجب نہ ہوں۔حکومت عبویہ میں کسی جائز سیاسی یا سماجی سرگرمی کے رستہ میں بھی رکاوٹ سمائل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جلسوں پر پابندی کے احکام اسی سپرٹ میں عائد کئے گئے ہیں یا لے آفاق یکم جولائی ۶۱۹۵۲ بحواله روزنامه افضل لاہور مورثہ یکم جولائی ۶۱۹۵۲