تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 188 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 188

۱۸۵ آ کرنماز پڑھنے اور دعا کرنے کی دعوت دی تھی۔در حقیقت ان لوگوں کی غرض یہ تھی کہ اس جگہ پر جمع ہو کر بعض سیاسی امور کا تصفیہ کریں جو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کے خلاف تھے غالباً ان لوگوں کا خیال بھی آجکل کے احرار کی طرح تھا کہ جو امر مسجد میں طے کیا جائے وہ قانون کی زد سے بالا ہوتا ہے اور جو کوئی اس معاملہ میں دخل اندازی کرے وہ مداخلت فی الدین کا موجب سمجھا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان لوگوں کا ذکر کیا اور ان کے اس فعل کو نا جائز قرار دیا۔چنا نچہ فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِد اصْرَارًا وَكَفْرًا وَ تَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وار صَادَ المَنْ حَارَبَ اللهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إلَّا الْحُسْى وَاللهُ يَشْهَدُ إنَّهُمْ تَكْذِبُونَ لَا تَقُمْ فِيهِ اَبَدًا لَمَسْجِدُ اُسّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالُ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَرُ وا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ آفَمَنْ آمَسَ بنْيَانَهُ عَلَى تَقَوَى مِنَ اللهِ وَرِضْوَانِ خَيْرُ امْرُ مَنْ اَمَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَى شَفَا جُرْنِ هَارِ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ ON KORANGAG لا يزال بُنْيَانَهُمُ الَّذِي بَنَارِيَةً فِي قُلُوبِهِمْ إلا أن تَقطَّعَ قُلُوبُهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ 0 ( التوبة ) ران آیات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جو کوئی مسجد بناتے ہیں یا کسی مسجد کو اختیار کر لیتے ہیں اسلئے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو نقصان پہنچائیں اور نا فرمانی کی تعلیم وہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کریں اور وہ لوگ جو کہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر لڑ رہے ہیں ان کے لئے گھات ہیں بیٹھیں اور ان کے اوپر حملہ کریں اور بڑی شدت سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم اپنے افعال سے صرف نیکی اور بھلائی چاہتے ہیں۔اللہ گواہی دیتا ہے کہ ایسے لوگ جھوٹے ہیں۔اسے خدا کے رسول کو ایسی مسجد میں مت کھڑا ہو۔وہ مسجدیں جن کی بنیاد تقوئی پر قائم کی گئی ہے ابتدائی دینی سے وہ زیادہ حقدار ہیں کہ تو ان میں کھڑا ہو۔ان مسجدوں میں ایسے لوگ بھاتے ہیں جو کہ نفس کی پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی پاکیزہ نفس لوگوں کو پسند کرتا ہے۔کیا وہ لوگ جو کہ سجدوں کی