تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 185
TAY خلاف ہے تو ظاہر ہے کہ ہم اس حصہ تعلیم کی روح کو اخذ نہیں کیا لیکن اگر ہم نے اسلامی تعلیم کو صحیح طور پر بچھا ہے تو فطرت انسانی کبھی بھی اس کے خلاف نہیں ہو سکتی اور یقیناً کہیں پر ہماری ہی غلطی ہوگی۔اس صورت میں ہمیں چاہیے کہ اس معاملہ پر زیادہ گہرے طور پر غور کریں اور مزید کوشش کر کے اصل حقیقت کو معلوم کر یں۔اگر ہم اس نہایت ہی مضبوط اصل کو سامنے رکھیں گے تو ہم ملینا بہت جلد صداقت کو پالیں گئے اور اپنے ملک کے لئے بہترین قوانین بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے بغیر۔۔۔۔ی صحیح ہے کہ ہم اپنے ملک کے ہر طبقہ یعنی مولویوں، مغربیت زدہ تعلیم یافتہ لوگوں ، غریبوں اور ائیروں کو پوری طرح مطمئن نہیں کر سکتے لیکن مندرجہ بالا دانشمندانہ اصول پر عمل کر کے ہم یقیناً انسانی فطرت کے تقاضوں کو ٹو پہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے یکن دعا کرتا ہوں کہ پاکستان کے قوانین بنانے والوں اور ان پر عمل کرانے والوں کو۔انکے وکیلوں کو اور قوانین کی کتابیں لکھنے والوں کو اور ان کے شارحین کو اللہ تعالی اسلام کے بتائے ہوئے طریق کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ مفید رسالہ جوکہ سندھ مسلم لاء کالج کی طرف سے جاری کیا جا رہا ہے اس مقصد کے حصول کے لئے ایک مفید آلہ ثابت ہوتا ہے و احترام مساجد سے تعلق ایک فقہی مسئلہ پنجاب میں احمدیوں کے خلاف فرقہ ارادہ تقاریر سے اور رحضرت صوبہ بھر کا امن و امان درہم برہم ہونے لگا تو پنجاب صلح موعود کا موقف کے وزیر اعلیٰ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ نے ارجون ۱۹۵۲ء کو فرقہ وارانہ نوعیت کے تمام جلسوں پر پابندی لگادی اور تمام ڈسٹرکٹ مجسٹریوں کو ہدایت دی کہ جمعہ کے ایسے اجتماعات پر بھی نگاہ رکھیں جن کو خطیب فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے لئے استعمال کریں لیے حکومت پنجاب نے اس پابندی کی وضاحت میں حسب ذیل پر ایس نوٹ بھاری کیا :- حکومت پنجاب عوام کی اطلاع کے لئے ان واقعات کا پس منظر بتانا چاہتی ہے جس کے پیش نظر صوبہ کے مختلف اضلاع میں ایک خاص نوعیت کے پبلک جلسوں کے انعقاد پر پابندی عائد کرنا کے روزنامه الفضل لاہور مورخہ ۲۰ تبوک ۱۳۳۱ پیش مطابق ۲۰ ستمبر ۱۹۵۲ء ص : کے سیول اینڈ ملٹری گزٹ ۷ ارجون ۱۹۵۲ء صٹ کالم عنگ ؟