تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 184
JA) مگر واپس کیا بجائے مسلمانوں نے جب اس معاہدہ کا عملی پہلو دیکھا تو اسے نہایت خطرناک اور دلیل گئی خیال کیا اور ابو جندل کی حفاظت میں فوراً تلواریں کھینچ لیں لیکن رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا اور فرمایا :- خدا کے رسول اپنا عہد کبھی توڑا نہیں کرتے لے اور مسلمانوں کی جذبات انگیز درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ابو جندل کو اس کے باپ کے حوالہ کر دیا۔اس لئے ایک پاکستانی مسلمان خواہ کتنا ہی مخلص اور دینی جوش رکھنے والا ہو کبھی یہ نہیں کر سکتا ہ وہ اسلام کی محبت اور بخاری میں اتنا گداز ہے جتنا حضرت نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم تھے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اس معامہ میں ہمارے لئے خود ایک اعلی نمونہ چھوڑ گئے ہیں۔اگر ایک مسلمان اللہ تعالی کی نظر میں ویسا ہی اچھا مسلمان ثابت ہونا چاہتا ہے جیسا کہ وہ خود گمان کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ لفظی اور معنوی طور پر ان تمام معاہدات اور وعدوں کو پورا کرے جو پاکستان بننے کے وقت اقلیتوں اور دوسری قوموں سے کئے گئے تھے اگر وہ ان وعدوں کے الفاء سے ذرا بھی پہلوتی کرتا ہے تو وہ درحقیقت اسلام سے دور جاتا ہے۔پاکستان کے قوانین بناتے ہوئے ہمیں خاص خیال رکھنا ہو گا کہ :۔تعلیم اسلام کی روح ہمیشہ ہمارے مد نظر ر ہے۔ب ہمارے قوانین فطرت انسانی کے ساتھ کامل مطابقت رکھتے ہوں۔جہ۔ہم ان وعدوں کو ہر لحاظ سے پورا کریں جو اقلیتوں سے کئے گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد کے مطابق ہر بچہ فطرانت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔(بخاری کتاب القدر) اب اگر حضور کا یہ ارشاد صحیح اور سچا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بچا کون ہو سکتا ہے تو پھر اسلام کے قوانین بھی انسانی فطرت کے خلاف نہیں ہو سکتے اور نہ ہی انسانی فطرت قوانین اسلام کے خلاف ہو سکتی ہے۔ایس ہمارا یہ ایک مقدس فرض ہے کہ ہم مندرجہ بالا حدیث کو سامنے رکھیں اور اس حقیقت پر یقین رکھیں کہ اسلام نے جو کچھ سکھایا ہے فطریت اپنے پانی کے عین مطابق ہے اگر اسلام کی تعلیم کا وہ جمعتہ جسے ہم انسانی فطرت کے خلاف کھتے ہیں واقعی انسانی فطرت کے ه طبری جلد ۲ د حالات صلح دیلیه ) العلامہ ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (۲۳۴ ھ - ۳۱۰ ه )