تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 183
قانون کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کا علم بھی رکھتے ہیں وہ کوئی گزشتہ تجربہ اور قومی روایات نہیں رکھتے جن سے انہیں نئے قوانین بنانے میں مدد مل سکے۔پس ان کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے لئے ایک نیا راستہ بنائیں اور پھر ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کر کے ان پر قابو پائیں جو مبتدیوں کو پیش آتی ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے لوگوں کو اس راہ میں سب سے بڑی مشکل یہ پیش آئے گی کہ اس کے باشندوں میں ایک بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور پاکستان کی حکومت کسی فوجی یاملکی فتح کے نتیجہ میں قائم نہیں ہوئی بلکہ وہ ایک معاہدہ کے ذریعہ سے معرض وجود میں آئی ہے۔اس لئے اپنے قوانین بناتے ہوئے پاکستان کو با وجود اپنی وسیع مسلمان اکثریت کے اس معاہدہ کا لحاظ رکھنا پڑے گا ورنہ اس کو اس بات کا بجا طور پر ملزم گر دا نا جائے گا کہ اس نے ایک باہمی معاہدہ توڑ دیا۔جوش اور ولولہ اگر چہ ایک قابل تعریف خصلت ہے لیکن اس کا حد سے بڑھ بھاتا بھی غلط اقدام کا باعث بن جاتا ہے۔ترکی میں مذہب کا سیاست سے بالکل الگ کیا جانا در اصل اسی قسیم گئے غلط مذہبی جوش کا رد عمل تھا۔اسلام سے محبت اور اپنے ملک میں اس کے قیام کی خواہش یقیناً بہت اعلیٰ جذبات ہیں لیکن اگر ان ہی جذبات کو مناسب حدود سے تجاوز کرنے دیا جائے تو یہی ہمیں اسلام سے دور لے جانے کا باعث بن جائیں گے۔ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جو تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔اس معاہدہ کی ایک شرط یہ تھی کہ اگر کوئی مسلمانی کفر اختیار کرلے تو اسے منہ بجانے کا پورا اختیار ہو گا لیکن اس کے پرٹیکس اگر کوئی کا فر اسلام لے آئے تو اسے مدینہ کی اسلامی ریاست میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ایسے اس کے وارثوں اور رشتہ داروں کے پاس واپس بھیج دیا جائے گا۔یہ مشرہ مسلمانوں کے لئے بظا ہر نقصان دہ اور ذلیل کی معلوم ہوتی تھی او انہوں نے اس بہتک کو محسوس بھی کیا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے لیڈر بھی کچھ وقت + کے لئے تذبذب میں پڑ گئے۔ابھی اِس معاہدہ پر دستخط ہوئے ہی تھے کہ ایک نو جوان جس کا نام ابو جندل نو تھا بیٹیوں میں جوڑا ہوا بشکل تمام اس مجلو میں آپہنچا جہاں اس کے باپ سہیل نے ابھی ابھی مگر والوں کی طرف سے معاہدہ پر دستخط کئے تھے سہیل نے فوراً مطالبہ کیا کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو