تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 182 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 182

149 کیونکہ سنی سنائی بات دیکھی ہوئی بات پر غالب نہیں آسکتی یا لے سندھ مسلم لاء کالج نے ایک سہ ماہی رسالہ پاکستان پاکستان میں قانون کا مستقبل اور رویوں کے نام سے کراہ سے جاری کیا جس کے است لاد ریویو کے نام جس ۱۹۵۲ء کے شمارہ میں حضرت مصلح موعود کار قم فرمودہ حسب ذیل مقالہ سپر د اشاعت ہوا :- مجھے یہ معلوم کر کے ازحد مسرت ہوئی ہے کہ سندھ مسلم لاء کالے عنقریب ایک سہ ماہی رسالہ ایس مقصد کے لئے جاری کر رہا ہے کہ وہ اپنے قارئین کو قانون کے سائنٹیفک طور پر مطالعہ کرنے کی طرف عموماً اور پاکستان میں قوانین کو بہتر بنانے کے متعلق امور پر بحث کرنے کی طرف خصوصا ہنمائی کر سکے تاکہ اس طرح عام لوگوں اور ماہرین علیم قانون کے نظریات اور خیالات میں بیگانگت اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکے اور تاکہ ماہرین علیم قانون اپنے اہم فرائض سے بہتر طریق پر زیادہ سہولت کے ساتھ عہدہ برآ ہو سکیں۔اس میں شک نہیں کہ علیم قانون دوسرے علوم کی طرح بلکہ ان میں سے اکثر سے کچھ زیادہ ہی اس بات کا محتاج ہے کہ اس کو انسانی عمل اور تجربہ کی روشنی میں منضبط اور مرتب کیا جائے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کی صحیح راہنمائی کر سکے لیکن بدقسمتی سے ایشیا کے باشندے کئی صدیوں سے غیروں کی ماتحتی میں رہنے کی وجہ سے اس ضروری علم سے بالکل بے بہرہ ہو چکے ہیں۔اب جبکہ کم از کم ایشیا پر مکمل آزادی کا سورج طلوع ہو چکا ہے اور اس کے باشندوں نے بھی دنیا کی آزاد اقوام کی طرح اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھ لیا ہے یہ امر اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مغربی ممالک کے مقابلہ پر علیم قانون کے مطالعہ کے لئے زیادہ توقیہ اور زیادہ وقت صرف کریں۔دنیا کی آزاد اقوام نے علیم قانون کے لیے مطالعہ اور تجربہ کے بعد آخر کار اپنے ممالک کے قوانین کے لئے ایک مخصوص راستہ اور لین منتظر پیدا کر لیا ہے جو کامل طور پر ان کی شخصی اور اجتماعی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔علاوہ اس کے ان میں وسیع اور گہرا علم رکھنے والے ماہرین قانون موجود ہیں جو اپنے لوگوں کے پرانے اختیار کردہ راستہ کے مطابق نئے پیدا ہونے والے دشوار اور دقیق قانونی مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ایشیائی لوگوں کے لئے ہر حال پیشکل ہے کہ ان میں جو لوگ ه روزنامه الفضل لاہور ۸ روفا ۳۳۱ پیش کر د ر جولائی ۱۹۵۲ء ص :