تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 177
۱۷۴ تم ہم سے کیا کہہ کر گئے تھے اور اب کیا کر رہے ہو۔ابتدائی صعوبات کے زمانہ کو چھوڑ کر جب خدائے تم کو اپنے کرم سے بے خوف کیا یعنی کیا تم کو حکومت دی تم نے اس کے افضال کا کونسا قرضہ چکایا ؟ ہمارے دل کتنے دردمند ہیں ہم تم کو یہ نہیں بتا سکتے اور بتانا بھی نہیں چاہتے ہم یہاں کتنے بے عزت ہیں اس کا استفسار بھی تم سے مقصود نہیں کہ اس بے عزتی کے ذمہ دار تم ہو اور تم سے گلہ بھی نہیں کرتے کہ تم اس کے اہل نہیں۔تم سے کوئی مدد بھی نہیں چاہتے کہ تمہارے پاس دھرا کیا ہے ؟ تم نے متاع ایمان و اسلام کو ہی زنگ آلو بنا دیا تو پھر تمہارے پاس کیا رکھا ہے جو ہماری مد کرو گے ہم فاقوں کو برداشت کر لیتے ہیں کہ روزہ ہم کو اس پر صبر دلا دیتا ہے۔ہم اس بے عزتی کو بھی سہار لیتے ہیں کہ بھارت کا فروتر سے فروتر غیر مسلم آج اس دور میں ہم سے زیادہ معزز ہے۔آج ہمارے آگے ہاتھ پھیلانے والا ہم کو بے تکلف گالی دیتا ہے اور ہم خاموش ہو جاتے ہیں۔ہم معمولی سی چپقلش میں اکثریت اور اس کے بعد پولیس کے ڈنڈے کھاتے ہیں۔پھر جیل بھی ہم ہی جاتے ہیں۔ہماری منقولہ متاع یہاں بیٹے لینے والوں نے چھین لی اور غیر منقولہ محافظین جائداد نے اپنی حفاظت میں لے لیں ہم نہایت محنت شاقہ کے بعد مٹھی بھر آن جوں توں حاصل کر لیتے ہیں اور پیٹ کی آگ بجھا لیتے ہیں۔ہمارے خاندان متفرق ہوئے۔مائیں اولاد سے دُور ہوئیں۔خاوند بیویوں سے پیدا ہوئے بہنیں بھائیوں کی مورتوں کو ترس گئیں۔بچے باپ کے بیتے جی تیم ہو گئے۔اس پرچھرہ یہ کہ آنے جانے کے راستے ہم پر بند ہو گئے ہم نے ان طبیعی تلملاہٹوں اور فطری ہے چنیوں کو نیچی نظروں سے قبول کر لیا۔تمہاری طرف تو کیا دیکھتے ہم نے تو آسمان کی طرف نظر نہیں اُٹھائی اور کھل کو آہ بھی نہ کی۔یہ سب کہانیاں نہیں کیسی ڈرامہ کی ٹریجیڈی کے ٹکڑے نہیں۔اسے مجاہدین ! اسلام حقیقت ہے اور اس کا بھارت کے مسلمان کا ہر دل گواہ ہے۔یہ سب ہم نے برداشت کیا۔جو نہیں برداشت ہو سکتا وہ یہ -- کہ ہمارے غیر مسلم بھائی ہمارے دل و دماغ میں بھائے چھوتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا پاکستان۔اس کے لئے تم نے ہم سے لڑائی مول لی۔تم تو کہتے تھے کہ اسلام بڑا روا دار مذہب ہے اس میں انسانی خون اور آبرو کی بڑی عزت ہے۔کیا ہیں رواداری ہے کہ غیر سم تو کیا تم مسلم کے بھی تھوڑے سے اختلاف کو نہیں بخش سکتے۔تمہارے بھائیوں نے اپنے ہی قوم اور وطن کے بھائیوں کو ذرا سے بل بوتے پر کیا ناچ نچایا۔ان کے میلسہ گاہ میں پہنچے گئے جو انہوں نے تمہاری