تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 178
160 حکومت میں تمہاری اجازت لے کر کیا تم نے اُن کو رسوا کیا۔ان کا جلسہ درہم برہم کیا۔اس پر یہی نہں نہیں ان کی دکانوں کو آگ لگائی۔اُن کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیں۔یہ وہ مرزائی ہیں جن کا تمہارا دینی اختلاف ہے۔جب ان کی زیست حرام کر سکتے ہو تو غیرمسلموں پر گیا آفت دو ڈھاؤ گے ؟ وہ تمہارا الزام اسلام پر لگاتے ہیں اور ان کو لگانا بھی چاہئے کیونکہ نہ انہوں نے قرآن پڑھا ہے نہ اسلامی تعلیم کا مطالعہ کیا ہاں ان کو تمہارا وہ وعولی آج بھی یا د ہے کہ ہم با اختیار ہوئے تو ہماری حکومت کی تشکیل اسلامی ہوگی اور ان کا اب یہ بھنا کون غلط بتا سکتا ہے کہ جوکچھ تم کہتے ہو اور کرتے ہو اسلام نہیں ہے سو سے مصر کی وفد پارٹی کے ایک راہنما اور شعوب السلمین میری مصری لیڈر اس میلے امن کا بیان کے مندوب اس پھلنے مومن نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری ظفراللہ خاں کی خدمات صرف پاکستان کے وزیر خارجہ کی نہیں ہیں بلکہ آپ شرق وسطی اور بالخصوص مصر اور عرب دنیا کے بھی وزیر خارجہ ہیں۔وہ بہت بڑے مدیر ہیں انہوں نے اقوام متحدہ میں تونس، مراکش، ایران اور مصر کی حمایت کر کے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے چوہدری جناب ے بحوالہ روزنامہ الفضل لاہور مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۵۲ء ہے ہے مسلم پر پیس کے علاوہ بھارت کے مشہور غیرمسلم صحافی سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون اخبار ریاست دہلی (۲۶) مئی ۱۹۵۲ء) میں لکھا :- " چوہدری سر محمد ظفراللہ خان کے حالات اور اُن کے کیریکٹر سے جو لوگ واقف ہیں وہ اقرار کریں گے کہ جہاں تک مذہبی خیالات کا سوال ہے پاکستان کی وزارت تو کیا دنیا کے تمام ممالک کی وزارتیں بھی ان کے پاؤں میں لغزش پیدا نہیں کر سکتیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ یہ اپنے خیالات کو چھوڑ دیں۔حادیہ کراچی سے متعلق اکثر و بیشتر تیرے احراری ناپاک سازش ( مولانہ ملک محمد اکبر علی صاحب واقف زندگی سے ماخوذ ہیں۔ناشر مکتبہ تحریک انار کلی لاہور - طبع اول +