تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 169 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 169

۱۶۶ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔مجلس احمراری یہ گرگٹ جماعت جو مرغ با دنما کی طرح اپنا رخ بدلتی رہتی ہے جسے کل اپنا آج کا مسلک غلط نظر آتا ہے اور پرسوں آج کا مسلک راست معلوم ہوتا ہے جسے خود یہ علم نہیں کہ وہ چاہتی کیا تھی اور چاہتی کیا ہے جس کے مقدس " لیڈران کرام ۱۵ اگست تک سیاست کا رخ معلوم نہ کر سکے اور ان سے کسی سمجھ بوجھ کی توقع رکھی جاسکتی ہے جس کا وجود ہی محض اس لئے معرض ظہور میں لایا گیا کہ کچھ خود غرض لوگ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے اس جماعت کو بطور حربہ استعمال کریں جس نے ہر موقعہ پر مسلمانوں کے ساتھ غداری کی جس نے نظریہ پاکستان کا مذاق اڑا یا کبھی تو یہ جماعت سیاسی ہے کبھی نہ ہی۔پھر سیاسی۔پھر مذہبی۔غرضیکہ ناصبیوں کی یہ جماعت گرگٹ کی طرح رنگ ہی بدلتی نظر آئی " مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا اور تخریبی کارروائیاں کرنا اس جماعت کا پرانا مشغلہ ہے جس پر نهایت استقلال کے ساتھ آج تک قائم ہے۔کراچی کے تلخ واقعات بھی اسی روش کا نتیجہ ہیں۔آج قائد اعظم علیہ الرحمہ کی روح مسلمانوں سے پوچھ رہی ہے کہ کیا میں نے تمہیں اتحاد اور تنظیم کا یہی سبق دیا تھا جس کا مظاہرہ تم مسلمان بھائیوں کے ساتھ کر رہے ہو۔ہمیں بتایا جائے کہ آخر احمدیوں کا قصور کیا تھا وہ ان کے جلسہ میں پتھراؤ کیوں کیا گیا ؟ اس جلسہ میں موضوع تقریر ہی تھا اسلام ایک زندہ مذہب ہے " کیا ان مفسدین کو اس چیز سے اختلاف ہے؟ آخر یہ متشددانہ رویہ کیوں اختیار کیا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کو نہ سلمانوں سے پی پی ہے نہ اسلام سے۔انہیں صرف اپنے ہی موضوع سے دلچسپی ہے۔فساد ! ان کی گذشتہ روایات بھی یہی کہتی ہیں۔انہوں نے ہر اس موقعہ پر فساد کیا اور کرایا جہاں مسلمان آپس میں مل بیٹھے کبھی شیعہ سنی فتنہ کو ہوا دی گئی کبھی میرے صحابہ کی راگنی الا پی گئی کبھی رڈ مرزائیت کے نام پر فتنہ میں جھاگ لا لا کر مظاہرے کئے گئے۔اس وقت تو یہ تخریبی کارروائیاں انگریز کراتا تھا کیونکہ اس کا مفاد ہی اسی میں تھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو میگر اب ؟ اب یہ نتیجہ ہے ہماری حکومت کی نرم پالیسی کا۔ان بھیڑیوں کے منہ کو انسانی خون لگ چکا