تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 170
۱۶۷ ہے یہ اب بھی بر معصوم کی تلاش میں ہیں۔ہم حکومت سے امن، اتحاد تنظیم اور انسانیت کے نام پر اپیل کرتے ہیں کہ اس فتنہ کوئی الغور دبا دیا جائے ورنہ یہ آئے دن کے فسادات نہ صرف حکومت کے لئے دردسر کا موضوع ہیں بلکہ عامہ السلمین میں بھی بد ولی تشکلک اور عدم اعتماد کی ایک لہر پیدا کر دیں گے جو قوم کوکئی حصوں میں تقسیم کر کے بلی شیرازہ پارہ پارہ کرنے کا باعث ہوں گے ہم مانتے ہیں کہ یہ پاکستانی سوریا بڑے بہادر ہیں۔کاش ! حکومت ابھی سے ان کی فہرست مرتب کرے تاکہ جب کبھی جہاد کشمیر کا وقت آئے تو انہیں محاذ پر بھیج کر ان کی خدمات سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔حکومیت پاکستان کے دلی کراچی میں حکومت پاکستان کا مند ین اور متقی وزیر خارجہ ایک جلسہ کے اندر اسلام کی افضلیت پر تقریر فرما رہا ہے اور اس جلسہ گاہ کے باہر چند شورید پسر کرایہ پر لائے ہوئے مفسد گڑ بڑ پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔یہ یقینی بات ہے کہ ایک ایسے عیسہ میں جہاں اسلام کی فضیلت بیان کی جھائی مقصود ہو غیر مسلم اور بیرونی ممالک کے سفراء ومعززین بھی مدعو ہوں گے۔صرف یہ تصور کیجیئے کہ جب ہمارا وزیر خارجہ ہو۔این۔اومیں اور دیگر ممالک میں اپنی مدتل تقاریر سے ان لوگوں کو محو حیرت بنا کر خراج تحسین حاصل کرتا ہوگا۔اور پھر ان ممالک کے معززین جو کراچی میں مقیم ہیں اور عیسہ کے اندر ہمارے وزیر خارجہ کی اس طرح گت بنتی دیکھتے ہوں گے تو ان کی مقبولیت کے متعلق ان کا تاثر کیا ہوگا؟ اگر ہمارے وزیر خارجہ کا وقار ان لوگوں کی نظروں کے سامنے خاک میں ملا دیا جائے تو کیا ہمار ملک کا وقار قائم رہ سکتا ہے ؟ اگر یہ کوئی انتخابی جلسہ ہوتا یا الیکشن کے سلسلہ میں کوئی اجتماع ہوتا تو بھی مفسرین کی یہ حرکت قابل برداشت نہ ہوتی لیکن لیکن یہ ایک خالص مذہبی جلسہ تھا مفسدین کی روش یقینا سعد درجہ افسوسناک ہے۔ہمیں آپ یہ اندازہ لگاتا ہوگا کہ آئندہ کے لئے حکومت اس سلسلہ میں کیا پالیسی مقرر کرتی ہے؟ دیکھتا یہ ہے کہ عدالت میں یہ معاملہ ملزمان کے سزا پانے بابر کی ہو جانے پر ہی ختم ہو جائے گا یا اس حادثہ کی روشنی میں آئندہ کے لئے اس قسم کی تخریبی سرگرمیوں کے استیصال کے لئے بھی حکومت کوئی اقدامات کرتی ہے ؟ لے I ہفت روزه بیباک سر گو دریا یکم جون ۶۱۹۵۲