تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 163
14- اور غیر اسلامی حکومت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔آپ کو خود بخود قائد اعظم بن کر تخریب پاکستان کی اجازہ نہیں دی جا سکتی۔مرزائی کا فرسہی لیکن پاکستان کے باشندے اور اپنے آپ کو وفادار شہری ظاہر کر رہے ہیں۔اور حضرت قائد اعظم نے احمدیوں کے وجود کو پاکستان کے لئے مفید پا کر اکثر موقعہ پیران سے پاکستان کے لئے امدا دیں بھی محاصل کی ہیں اور پاکستان سے اپنا تعلق وانس ثابت کرنے کے لئے اپنے مرکز کو چھوڑنے اور کروڑوں روپیہ کی جائدادیں چھوڑ کر مرزائی کا فروں نے اپنی جانیں پاکستان کی خدمت کے لئے پیش کی ہیں۔حضرت قائد اعظم نے سر ظفر اللہ کو ایک قابل وفادار پاکستانی سمجھتے ہوئے وزارت خارجہ کا ایک نہایت اہم اور ذمہ دار عمدہ پیش کیا تھا چنانچہ اپنی بے نظیر دماغی صلاحیتوں اور قانونی قابلیتوں کے باعث نہ صرف خود ظفر اللہ اقوام عالم میں ہمہ گیر ہر دلعزیزی حاصل کر چکے ہیں بلکہ انہوں نے پاکستان کے وقار اور غربت کو بھی بچار چاند لگا دئے ہیں۔البتہ اگر حکومت کو اب ان کی خدمات کی ضرورت نہ ہو تو ان سے استعفیٰ مانگا جا سکتا ہے اور مرزائیوں کو ایک علیحدہ اور اقلیتی فرقہ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن پھر بھی پاکستان کے مرزائیوں کو ان کے عقائد، جان ومال کے تحفظ اور دوسرے شہری و ملکی حقوق کی مراعات دینی ہوں گی۔نا معلوم حکومت کن سیاسی مصلحتوں کی بناء پر بقیه بعات صفحه گذشته : برائے فسادات پنجاب ۶۱۹۵۳ مه ۲۷ اردو؟ شاہ صاحب کے سیاسی پیشوا جناب مولانا ابوالکلام آزاد کا مسلک اہنی کے لفظوں میں یہ ہے:۔یکن اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ پاکستان کا لفظ ہی میری طبیعت قبول نہیں کرتی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا ایک حصہ تو پاک ہے اور باقی ناپاک، پاک اور نا پاک کی بنیاد پر کسی قطعہ ارض کی تقسیم قطعاً غیر اسلامی اور روح اسلام کے بالکل منافی ہے " ر اس کے مقابل وطن الیہود کی تائید میں لکھتے ہیں۔جہاں تک یہودیوں کے قومی وطن کا مطالبہ ہے اس سے ہمدردی کی جا سکتی ہے کیونکہ وہ صاری دنیا میں گھرے ہوئے ہیں اور کسی علاقہ میں بھی وہاں کے نظم و انصرام پر کوئی اثرنہیں رکھتے لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت اس سے بالکل مختلف ہے ! آزادی ہند (ترجمہ) ۲۵ " NDIA WINS FREEDOM" از مولانا ابوالکلام آزاد مترجم مولانا این حمد جعفری - ناشر مقبول اکیڈیمی شاہ عالم مارکیٹ لا ہور)