تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 151
کے مواقع تلاش کرتی ہے۔ہمیں سب سے زیادہ حیرت تو اس امریرہ ہے کہ مرکزی وزراء میں سے کسی نے اس واقعہ سے ہیں نہیں لی۔یقینا مرکزی کابینہ میں ایک شخصیتیں ایسی بھی موجود ہیں جن کی قدر و منزلت عوام کی نظر میں بے انتہا ہے اور جن کو عوام کا اعلیٰ ترین اعتماد حاصل ہے۔اگر اس وقت مسلم لیگ زندہ ہوتی اور سر کاری جماعت نہ بن چکی ہوتی تو ایسے موقعوں پر صدر مسلم لیگ کے فرائض نہایت اہم مسلم لیگ کے پرانے کارکن۔آج اگر میدان عمل میں ہوتے تو یقیناً پاکستان کی اس قدر بے عزتی نہ ہوتی۔افسوس کہ علماء اسلام بھی اپنے گھروں میں بیٹھے رہے بلکہ ہم تو اس خیال کے حامی ہیں کہ اس واقعہ نے مذہب اسلام کو بد نام کیا ہے کیونکہ آج عام مسلمانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی اختلافی نظریہ کو سنتے کی اہلیت نہیں رکھتے اور مخالفین کے لئے کیچڑ اچھالنے کا موقعہ فراہم کر دیا گیا ہے۔کیا ہم اپنی حکومت سے توقع رکھیں کہ وہ اس ناخوشگوار واقعہ کے سلسلہ میں نہایت سخت اقدام سے بھی گریز نہ میں کر رہے گی۔یہ اور اس فتنہ کے اُٹھانے والوں کو انتہائی عبرتناک سزائیں دے کر ملک میں اس آگ کو پھیلنے سے روک دے گی ہمیں خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم پاکستان سے قومی توقع ہے کہ وہ ایں شہر کو کچلنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کریں گے اور ان مولویوں کے فتنہ کا قلع قمع کر دیں گے جنہوں نے غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کو آپس میں لڑوا کر مسلم خون کی ارزانی کا ثبوت دیا تھا۔اگر پاکستان میں غیر مسلم مہندوستان کی فرقہ وارانہ روایات کو دہرایا گیا تو ہمارا دعوی ہے کہ پاکستان تباہ ہو جائے گاز عام مسلمانوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے ان کو سوچنا چاہیئے کہ جن شہر پسندوں نے یہ حرکت کی ہے کیا انہوں نے احمدیت کے قلع قمع کرنے کا یہ صحیح راستہ اختیار کیا ہے۔کہاں ہیں مفتی محمد شفیع صاحب که بر این سید سلیمان ندوی، مولانا احتشام الحق اور صدر پاکستان کم بیگ کہاں ہیں ؟ یہ سب کیوں نہیں اس موقعہ پر پہنچے ؟ اور کہاں ہیں کہ اچھی مسلم لیگ کی صدارت کے امیدوار اگر یہ سوچی بھی تجویز اور پروگرام نہیں ہے او بر انگیختہ مسلمانوں کو کیوں نہیں سمجھایا گیا کیا اس عوامی حکومت کے پاس گئیں مارنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا۔شرپسندوں کو سمجھانے کی ضرورت تھی اگر ان کو کوئی عوامی شخصیت سمجھانے والی ہوتی تو یہ ہنگامہ اس قدر شدید