تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 152
119 صورت اختیار نہ کرتا ہم ان افراد کی جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے یا جنہوں نے اس کا پروگرام بنایا ہے سخت مذمت کرتے ہیں۔ہفت روزہ " پیام مشرق (۸- جون ۱۹۵۲م) نے لکھا :- پاکستان کا باشعور طبقہ بہت عرصہ سے یہ سوچ رہا ہے کہ مملکت اسلامیہ دولت خدا داد پاکستان کا کیا مفہوم ہے اور اسلامی حکومت کا نعرہ کمزور حکومت کے ایوانوں میں کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ کیا اسلامی حکومت سے مراد ایک ایسا نظام ہے جہاں صرف مولانا بدایونی ہی شہریت کے پورے حقوق کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں یا قرار داد مقاصد کی چھاؤں میں سوامی کلو گانند بھی پاکستان کے شہری ہونے کا دعوئی کر سکتے ہیں ؟ آج پانچ سال کے بعد یہ سوال اس وجہ سے اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ شہرت و اقت دار کے بھوکے پاکستان کے نام نہادونگا اور مولوی پاکستان کی سالمیت کے لئے ایک مستقل خطرہ بن کر اس کے سامنے آگئے ہیں اور آج ہی ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس اجتماعی قومیت کو باقی رکھنے کے لئے ہمارا آئیندہ قدم کیا ہونا چاہیئے۔احمد یہ عقائد سے ہمیں شدید اختلاف ہے اور ہم کبھی بھی ان کے ہمنوا نہیں ہو سکتے لیکن پچھلے دنوں جہانگیر پارک کراچی میں سالانہ کا نفرنس میں شرپسند عناصر نے اسلامی حکومت کا نام لے کر جس طرح قرار داد مقاصد کو ننگا کیا ہے ساری دنیا کے جمہوریت پسند انسانوں کی نگاہ میں اسلام ایک متعصب ملا کا ایک پر فریب سیاسی عقیدہ بن کر رہ گیا ہے۔اسلام دنیا کے ہر انسان کے لئے امین اور خوشحالی کا پیغام لے کر آیا تھا۔پاکستان کے ان تنگ نظر اور مفاد پرست ملاؤں نے اس مقدس تعلیم کو محض کارخانوں اور وزارتوں کی ہوس ہیں ہد نام کرنے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا ہے۔۲ جون ۱۹۵۲ء کو آل مسلم پارٹیز کنونشن کے نام سے تھیا سوفیکل ہال کراچی میں علماء کرام کا ایک جلسہ منعقد ہوا۔کارکنان جلسہ میں بہت سے ایسے علماء کے نام بھی درج ہیں جن کی مذہبی خدمات آج کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں اور بر صغیر پاک و ہند کا ہر مسلمان ان کا ذکر آنے پر عقیدت سے سر جھکا دیتا ہے۔ہم ان کے تقدس اور ملیت کا پورا احترام کرتے ہوئے ان سے یہ دریافت کرلے کی جرات ضرور کریں گے کہ احمدیوں کے نہ سہی