تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 2
F یہ ہے کہ :۔" یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دار النتجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لآرائه الا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ہے لے اس آسمانی سلسلہ کی ابتداء اگر چہ سنت ربانی کے مطابق پہلی مخالفت کے باوجود شاندار ترقی خدائی جماعتوں کی طرح تربت، بے کسی اور گنامی کے ماحول میں ہوئی مگر اس کے اثرات ہر قسم کی مخالفت و عداوت کے مضبوط حلقوں کو توڑتے، اور منافرت کی ہولناک خندقوں کو پھاندتے ہوئے ، وسیع سے وسیع تر ہوتے گئے حتی کہ ۱۹۴۷ء کے اُن خونچکاں اور ہوش ربا واقعات کے باوجود جنہوں نے جماعتی نظم ونسق کی بنیاد تک ہلا ڈالی تھی، چند برسوں کے انڈ اندر قادیان اور ربوہ سے اُٹھنے والی آوازیں دنیا بھر میں گونجنے لگیں اور اسلامی انقلاب کا وہ نقشہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کو ۱۸۹ء میں ایک نئے نظام انٹے آسمان اور نئی زمین کی صورت میں بذریعہ خواب دکھا یا گیا تھا۔ایک حقیقت بن کر اُبھر نے لگا۔۔۔۔۔حضرت اقدس علیہ السّلام فرماتے ہیں :- " کیا یہ عظیم الشان نشان نہیں کہ کوششیں تو اس مرض سے کی گئیں کہ یہ تخم جو بویا گیا ہے اندر ہی اندر نابود ہو جائے اور صفحہ ہستی پر اس کا نام و نشان نہ رہے مگر وہ تخم بڑھا اور پھولا اور ایک درختہ بنا اور اس کی شاخیں دور دور چلی گئیں اور اب وہ درخت اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہزار ہا پسند اس پر آرام کر رہے ہیں یا سکے جماعت احمدیہ کی اس حیرت انگیز ترقی میں اس کے سالانہ جلسہ کو ہمیشہ سالانہ جلسہ کی اہمیت بھاری دخل رہا ہے جیسا کہحضرت اقدس علیہ السلام نے دسمبر ۱۸۹۹ از حجة الاسلام ما صار اشاعت ۸ مئی ۶۱۸۹۳) مطبوعہ ریاضی ہند پر لیس امرتسره به آئینہ کمالات اسلام " ۵۷۲ - ۵۶ طبع اول (اشاعت ۶۱۸۹۳) و "كتاب البرية" من ، من (اشاعت ۲۴ جنوری ۶۸۸۹۸) سے تانند ول اسیح" حت (اشاعت اگست ۶۱۹۰۹) *