تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 3
کے اشتہار میں بطور پیش گوئی لکھا :- اس جلسہ کو معمولی انسانی مجلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں طیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی۔کیونکہ یہ اُس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں " سے جلسہ سالانہ کی اس غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر تاریخ احمدیت کی جلد کا انتقام جلاس سالانہ ریدہ ۳۳۰اہش / ۱۹۵۱ء کے کوائف پر کیا گیا تھا اب موجودہ سیلد کا آغاز اسی سال کے جلسہ قادیان کے واقعات سے کیا جاتا ہے۔فصل اوّل جلس الانه قادیان ۱۳۳۰ هش / ۱۹۵۱ء کا سالانہ جلسہ حسب دستور اپنی شاندار اور مخصوص روایات کوائف جلسہ کے ساتھ شروع ہوا اور (۲۶ تا ۲۸ ، وفتح ہیمبر تین روز تک جاری رہا۔اس مبارک اجتماع میں بھارت کے جن دور دراز علاقوں سے شمع احمدیت کے پروانے جمع ہوئے اُن کے نام یہ ہیں :- حیدر آباد دکن ، چنتہ کنٹر، کرنول ، یاد گیر، بمبئی ، صورت ، مدراسی، مالا بار، پیشہ مظفر پور حسینا، پرکھوپٹی، مونگیر، سہارنپور، بجو پوره ، امروہہ، بریلی، شاہجہانپور، راٹھ علی پور ننگلہ گھنو، آگرہ ، صالح نگر، ساندھی ، انبیٹہ، کریل، کانپور، انبالہ اور کشمیر۔علاوہ ازیں پاکستانی زائرین کا ایک قافلہ بھی شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور کی امارت له تبلیغ رسالت، مجموعه اشتهارات حضرت سیح موعود علیه السلام) جلد ۲ تا مرتبہ حضر میرقاسم علی حمایت مدیر فاروق قادیانی که ولادت ۲۳ اپریل ۱۹۰۲ ء وفات یکم اپریل ۶۱۹۷۳ ) ؛