تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 129
۱۲۶ ۱۹۵۲۰ء کے جماعت احمدیہ کراچی کے سالانہ جلسے میں مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا تھا میں نے اپنی تقریر کا عنوان" اسلام زندہ مذہب ہے انتخاب کیا۔جب جلسے کا دن قریب آیا تو بعض عناصر کی طرف سے جیسے کے خلاف اور خصوصا میرے تقریر کرنے کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔جلسے کے دن تک یہ مخالفت بظاہر ایک منتظم صورت اختیار کر گلی میں نے تقریر کی۔دوران نظری میں کچھ فاصلے سے شور و شعب کے ذریعے جلسے کی کاروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش بھاری رہی کچھ آوازے بھی کئے گئے۔تقریب کے بعد میں اپنے مکان پر واپس آگیا۔جہاں تک اہم ہے گو کسی قدر بد مزگی تو پیدا کی گئی لیکن الحمد شہد کوئی فساد نہیں ہوا۔وقتاً فوقتاً جماعت احمدیہ کے جلسوں یا دیگر سر گر میوں کے خلاف مختلف مقامات پور جوش کا مظاہرہ ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی جہاں کہیں ایسی صورت پیدا ہوتی رہی جماعت کار ایل بفضل اللہ امن پسندی کا رہا۔جماعت کی طرف سے کبھی خلاف و قاریا موجب استعمال کا رروائی یا حرکت ظہور میں نہیں آئی تیجہ ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ دو چار روز میں مخالفت کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا۔اس موقعہ پر خلاف معمول ایک تو متعدد عناصر نے مل کر مخالفت کا ایک محاذ قائم کر لیا اور دوسرے مخالفت کا جوش ٹھنڈا پڑنے کی بجائے زور پکڑتا گیا اور بعض دوسرے مقامات پر بھی تائیدی مظاہر سے شروع ہو گئے۔رفتہ رفتہ اس محاذ کی طرف سے ایک فرست مطالبات کی تیار کی گئی اور کثرت سے عوام کے دستخطوں کے ساتھ بذریعہ ڈاک حکومت کو پہنچائی جانے لگی۔۔۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ میں اقوام متحدہ کی اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے نیو یارک پھل گیا۔میری غیر حاضری میں جو کچھ ہوا اس کی تفصیل کا تو مجھے کوئی ذاتی علم نہیں کیونکہ اس نوع کی بہت کم کوئی خیر مجھے امریکہ اپنی سیکھیں ور ایسی پر معلوم ہوا کہ یہ تحریک بہت زور پکڑ چکی ہے۔امریکہ بجانے سے پہلے بھی اور امریکہ سے واپسی کے بعد بھی یکس نے خواجہ ناظم الدین صاحب کی خدمت میں گزارش کی کہ اگر میرے وزارت خارجہ سے علیحدہ ہو جانے سے آپ کے لئے سہولت ہو جاتی ہے تو لیکن آپ کی خدمت میں اپنا استعفے پیش کر دیتا ہوں لیکن خواجہ صاحب نے اسے پسند نہ فرمایا بلکہ کہا کہ تمہارا استعفیٰ دینے سے مشکل حل نہیں ہوگی بلکہ اور پڑھے گی۔جو صورت حال پیدا کر دی گئی وہ ہر چند مجھ پر گراں تھی لیکن اقامة فى ما اقام الله (جمال اللہ تعالی کھڑا