تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 128 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 128

۱۲۵ نے اس امر کے خلاف اپنی ناپسندی کا اظہار کیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے ایک فرقہ وار جلسہ عام میں شرکت کا ارادہ کیا ہے لیکن چوہدری ظفر اللہ نے خواجہ ناظم الدین سے کہا کہ نیکی انجمن سے وعدہ کر چکا ہوں اگر چند روز پہلے مجھے یہ مشورہ دیا جاتا تو یکی مجلسے میں شریک نہ ہوتا لیکن وعدہ کر لینے کے بعد یکیں اس جلسہ میں تقریر کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔اور اگر اس کے باوجود بھی وزیر اعظم اس بات پر مصر ہوں کہ مجھے جلسے میں شامل نہ ہونا چاہیئے تو میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کو تیار ہوں۔اس جیسے کے پہلے اجلاس پر عوام کی طرف سے ناراضی کا مظاہرہ کیا گیا اور اجلاس کی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں لیکن ۱۸ مئی کو قیام امن کے لئے خاص انتظامات کئے گئے اور چوہدری ظفر اللہ خاں نے اس عنوان پر تقریر کی کہ اسلام زندہ مذہب ہے ؟ ایک عالمگیر مذہب کی حیثیت سے اسلام کی برتری اور خیمیت کے مسئلے پر یہ ایک فاضلانہ تقریر تھی مقرر نے واضح کیا کہ قرآن آخری الہامی کتاب ہے جس میں عالم انسانیت کے لئے آخری ضابطہ حیات مہیا کیا گیا ہے کوئی بعد میں آنے والا ضابطہ اس کو موقوف نہیں کر سکتا۔پیغمبر اسلام صلعم خاتم النبیین ہیں جنہوں کو نے عالم انسالی کو اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام پہنچایا ہے اور اس کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا جونئی شریعت کا حامل ہو یا قرآنی شریعت کے کسی قانون کو منسوخ کر سکے۔احمدیوں کے مسلک کے متعلق پوری تقریر میں صرف اتنا اشارہ کیا گیا تھا کہ رسول اللہ کے وعدے کے مطابق ایسے اشخاص آتے رہیں گے جو اللہ تعالی کی طرف سے تجدید دین پر مامور ہوں گے تاکہ اصلی دین اسلام کی پاکیزگی کو محفوظ کرنے کی غرض سے اس کی اصلاح و تجدید کریں اور اگر اس میں کوئی غلطی فرو گذاشت یا بدعت راہ پاگئی ہو تو اس کو دور کر دیں۔مقرر نے دعوی کیا کہ مرزا غلام احمد اسی قسم کے مجدد تھے۔تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا کہ احمدیت ایک ایسا پودا ہے جو اللہ تعالیٰ نے خود لگایا ہے اور اب جڑ پکڑ گیا ہے تاکہ قرآن کے وعدے کی تکمیل میں اسلام کی حفاظت کا ضامن ہو یا سے چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب اپنی خود نوشت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب کا بیان سواری مری میں واقع کراچی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔اے رپورٹ تحقیقاتی عدالت نسادات پنجاب ۱۹۵۳ء صت، ما اُردو ایڈیشن :