تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 122
119 کراچی میں احتفالی علماء اسلام کا ایک الجزائری نمائندہ احتفال العلماء کی ربوہ میں آمد۔سر دروازه اجلاس ۱۶-۱۷-۱۸ فروری ۱۹۵۲ء کو منعقد ہوا جس میں مسلم ممالک کے ہم علماء نے شرکت کی۔۲۱ علماء پاکستان کے تھے اور ۲۲ ایران، انڈونیشیا، عراق، افغانستان، مصر، شام، ہندوستان اور الجیریا سے تشریف لائے۔اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعہ استعماری طاقتوں کوخبردار کیا کہ کشمیر اور تمام دوسرے اسلامی مالک کے متعلق اپنی پالیسی فور ابدل لیں ورنہ امن عالم خطرہ میں پڑ جائے گا لے اجلاس میں الجدائمہ کی نمائندگی علامہ محمد بشیر الابراہیمی الجزائری نے کی جو اس ملک کے ایک مقتدر عالم اور قریباً ۳۰ اسکولوں کے نگران و ناظم تھے۔علامہ موصوف اجلاس کے بعد کراچی میں کچھ عرصہ قیام کے بعد در ہجرت ۱۳۳۱اہش / مئی ۱۹۵۲ء کو مرکزیہ احمدیت میں تشریف لائے۔آپ کے اعزاز میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے ہال میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس میں ریوہ جلسہ کے عربی دان بزرگ اور اصحاب خصوصیت سے شامل ہوئے۔تلاوت قرآن عظیم کے بعد الجزائری مندوب کے ترجمان محمد عادل قدوسی صاحب نے آپ کا تعارف کرایا۔پھر اہل ربوہ کی طرف سے مکرم مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری مبلغ بلا دیویہ و پرنسپل جامعہ احمدیہ نے خوش آمدید کہا۔آپ نے سب سے پہلے معزز مہمان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ گرمی کے موسم میں سفر کی صعوبتیں برداوات کرکے ربوہ تشریف لائے جہاں نئی بستی ہونے کی وجہ سے نہ اشجار ہیں نہ پانی کی کثرت اور نہ یہ کوئی بڑا شہر ہے گو انشاء اللہ بہت جلد ربوہ ایک بڑا شہر بن جائے گا لیکن فی الحال اس کی حیثیت ایک چھوٹی می لیستی کی ہے جس میں شہروں جیسے آرام و سامان میسر نہیں آسکتے۔ازاں بعد آپ نے بتایا کہ جماعت احمدیہ کے تمام مر چھوٹے اور بڑے، مرد اور عورتیں سب کے دماغ میں صرف ایک ہی بات سمائی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانا اور تمام مسلمانوں کو وحدت کے رشتہ میں پرونا ہے۔مولانا ابو العطاء صاحب کی تقریر کے بعد جناب علامہ محمد شبیر ابہ اہمی نے الجزائر مسلمانوں کی فرانسیسی انقلاب کے خلاف تحریک آزادی کا ذکر کرتے ہوئے اپنی جد و جہد آزادی پر روشنی لے زمیندار (لاہور) ۱۹ - فروری ۱۹۵۲ء ص :