تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 123
۱۲۰ ڈالی اور بتایا کہ کس طرح طویل جد و جہد کے بعد الجزائمہ کو غلامی سے نجات ملی۔تقریر کا دوسرا حصہ تربیتی رنگ کا تھا جس میں آپ نے اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ مسلمان قوم پر جو آجکل نکبت و ادبار کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالے کو اس قوم کے ساتھ کوئی دشمنی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ سلمانوں نے اسلامی تعلیم مھلادی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان مسلمان نہیں رہے اور آپ لوگوں کا فرض ہے کہ جہاں آپ یورپ میں اسلامی تعلیمات پھیلاتے ہیں وہاں مسلمانوں کی اصلاح کو مقدم کریں۔لیکن آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مسلمان علماء کی حالت خصوصاً اعمال کے لحاظ سے نہایت ناگفتہ یہ ہے وہی ساری خرابی کے ذمہ دار ہیں۔وہ اسلام کی روح کو بھلا بیٹھے ہیں آپ کو ان کی اصلاح کی فکر کرنی چاہیئے۔آخر میں آپ نے فرمایا یہاں یکی اجنبیت محسوس نہیں کرتا کیونکہ کثرت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو عربی زبان مادری زبان کی طرح بول سکتے ہیں۔آپ کی تقریر کے بعد حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے صدارتی خطاب میں جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات کا تذکرہ فرمایا اور دعا پر یہ تقریب ختم ہوئی بیہ اب ہم اس سال کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے جماعت احمدیہ کراچی کا سالانہ جلسہ تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر آن پہنے ہیں جہاں سے حالات نے یکا یک پلٹا کھایا اور اہل پاکستان عمومًا اور جماعت احمدیہ پاکستان خصوصاً ایک سنگین اور تشویش انگیز صورتِ حال سے دو چار ہو گئے۔واقعہ یوں ہوا کہ جماعت احمدیہ کراچی کا سالانہ جلسہ ۱۷ و ۱۸ مئی بروز ہفتہ و اتوار بعد نماز مغرب جهانگیر پارک میں مقرر تھا جس کا اعلان دو پوسٹروں، ہینڈیل اور دعوتی خطوط کے ذریعہ اچھی طرح سے کیا گیا۔پوسٹروں کے شائع ہوتے ہی ایک طرف تو مسجدوں میں تقریریں کر کے عوام الناس کو اشتعال دلانے اور جلسہ کو ناکام بنانے کے لئے ہرنا جائز طریق استعمال کرنے کی ترغیب دلائی گئی، دوسری طرف ذمہ دار حکام پر تاروں وغیرہ کے ذریعہ زور دیا گیا کہ وہ اس جلسہ کے انعقاد کی اجازت نہ دیں لیکن اس میں صریح ناکامی ہوئی۔له الفضل زار ہجرت ۱۳۳۱ پیش کر ۱۱ مئی ۱۹۵۲ء صدر ہے