تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 121
HA ۱۳۳۱ اہش / مئی ۱۹۵۲ء کو بذریعہ خطبہ جمعہ واضح ہدایت دی کہ ہمارے مرکزی سکولوں اور کالجوں کے منتظمین کا فرض اولین ہے کہ وہ آئندہ نسل کی ایسے بہترین رنگ میں تربیت کریں کہ وہ مستقبل میں اسلام کے لئے مفید وجود بن سکیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- اساتذہ کا فرض ہے کہ جب وہ دیکھیں کہ اُن کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہیں تو وہ اُن کے ماں باپ سے مشورہ کریں اور ان کی اصلاح کی تدابیر سو ہیں مگر یہ طریق صرف اُن لڑکوں کے متعلق اختیار کیا جاسکتا ہے جو بورڈنگ میں نہیں رہتے۔جو لڑ کے بورڈنگ میں رہتے ہیں ان کی تو سو فصیدی ذمہ داری اساتذہ اور نگران عملہ پر ہی عائد ہوتی ہے۔یہی ضرورت یکن سمجھتا ہوں دینیات کے مدارس میں بھی ہے۔وہاں بھی ہیں غفلت پائی جاتی ہے۔لڑکے تعلیم پارہے ہوتے ہیں اور ہم یہ مجھ رہے ہوتے ہیں کہ میں مبلغ تیار ہو جائیں گے مگر ہوتا یہ ہے کہ بیس بے دین یا میں لکھتے یا نہیں ناکارہ یا بیس جاہل پیدا ہو جاتے ہیں۔" اُستاد کا کام نہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے کو ریس کو جوکہ ا کرے بلکہ اُس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ زائد سٹڈی کروائے۔کوئی طالب علم صحیح طور پر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا جب تک اُس کا مطالعہ اس قدر وسیع نہ ہو کہ وہ اگر ایک کتاب مدرسہ کی پڑھتا ہو تو دس کتابیں باہر کی پڑھتا ہو۔باہر کا علم ہی اصل علم ہوتا ہے۔استاد کا پڑھایا ہوا علم صرف علم کے حصول کے لئے محمد ہوتا ہے، سہارا ہوتا ہے، یہ نہیں ہوتا کہ اس کے ذریعہ وہ سارے علوم پر حاوی ہو سکے۔دنیا میں کوئی ڈاکٹر نہیں بھی سکتا اگر وہ اتنی ہی کتابیں پڑھنے پر اکتفا کرے جتنی اسے کالج میں پڑھائی بھاتی ہیں۔دُنیا میں کوئی وکیل وکیل نہیں بن سکتا اگر وہ صرف اتنی کتابوں پر ہی انحصار رکھے مبنی اُسے کالج میں پڑھائی جاتی ہیں۔دُنیا میں کوئی مبلغ مبلغ نہیں بن سکتا اگر وہ صرف انہی کتابوں تک اپنے علم کو محدود رکھے جو اسے مدرسہ میں پڑھائی جاتی ہیں۔وہی ڈاکٹر ، وہی وکیل اور وہی مبلغ کامیاب ہو سکتا ہے جو رات اور دن اپنے فن کی کتابوں کا مطالعہ رکھتا ہے اور ہمیشہ اپنے علم کو بڑھاتا رہتا ہے۔پس جب تک ریسر پے ورک کے طور پر نئی نئی کتابوں کا مطالعہ نہ رکھا جائے اُس وقت تک لڑکوں کی تعلیمی حالت ترقی نہیں کر سکتی یہ ہے RESEARCH WORK : له الفضل یکم احسان ۱۳۳۱ اہش مٹ ہے تے