تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 114
H اپنے ہاتھ سے اُن کا کام کیا کرتی تھیں اور کھلانے پلانے ، آرام کا خیال رکھنے کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا مگر تربیت کا بھی بہت خیال رکھتیں اور زبانی نصیحت اکثر فرماتیں۔ایک لڑکی تھی، مجھے یاد ہے میں اُن دنوں حضرت اناں بھائی کے پاس تھی۔وہ رات کو تہجد کے وقت سے اٹھ بیٹھتی اور حضرت اماں جان سے سوالات کرنے اور لفظوں کے معنے پوچھنا شروع کرتی اور آپ اُس کی ہر بات کا جواب صبر اور خندہ پیشانی سے دیا کرتیں ہمیں نے اُس کو سمجھایا کہ اس وقت نہ ستا یا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بعد آپ نے بہت زیادہ صبر و تحمل کا نمونہ دکھا یا مگر آپ کی جدائی کو میں طرح آپ محسوس کرتی رہیں اس کو جو لوگ جانتے ہیں وہ اس صبر کو اور بھی حیرت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔آپ اکثر سفر یہ بھی جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو حضرت سیح موعود سے غیر معمولی محبت بہت پہلائے رکھتی تھیں۔باغ وغیرہ یا باہر گاؤں میں پھرنے کو بھی عورتوں کولے کر جانا یا گھرمیں کچھ نہ کچھ کام کرواتے رہنا، کھانا پکوانا اور اکثر غرباء میں تقسیم کرنا ( جو آپ کا بہت مرغوب کام تھا ، لوگوں کا آنا جانا اپنی اولاد کی دلچسپیاں یہ سب کچھ تھا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔حصان معلوم ہوتاتھا کہ کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ایک سفر ہے جس کو طے کرنا ہے۔کچھ کام ہیں جو جلدی جلدی کرتے ہیں۔غرض بظاہر ایک صبر کی چٹان ہونے کے باوجود ایک قسم کی گھبراہٹ سی بھی تھی جو آپ پر طار کی رہتی تھی مگر ہم لوگوں کے لئے تو گویا وہ ہر غم اپنے سینہ میں چھپا کر خود سینہ سپر ہو گئی تھیں مول میں طوفان اس درد جدائی کے اُٹھتے اور اس کو دبا لیتیں اور سب کی خوشی کے سامان کرتیں۔مجھے ذاتی علم ہے کہ جب کوئی بچہ گھر میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ ایک رکی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی جدائی کا آپ کے دل میں تازہ ہو جاتا اور وہ آپ کو اس بچہ کی آمد پر یاد کرتیں۔یکن اپنے لئے ہی دیکھتی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد چشمه محبت ایک چشمہ ہے ایسے حد محبت کا جو اتاں جان کے دل میں پھوٹ پڑا ہے اور بار بار فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے آیا تمہاری ہر بات مان لیتے اور میرے اعتراض کرنے پر بھی فرمایا کرتے تھے کہ لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہیں۔یہ کیا یاد کرے گی جو یہ کہتی ہے وہی کروی مرض یہ محبت“ بھی دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی محبت تھی جو آپ کے دل میں موجزن تھی۔