تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 113
١١٠ ۲ حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تحریر فرماتی ہیں:۔صرف اس لئے نہیں کہ اتقان جان رضی اللہ عنہا غیر معمولی غیر معمولی محبت کرنے والی ماں محبت کرنے والی ماں تھیں اور اس لئے نہیں کہ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو محض ذکر خیر کے طور پر آپ کا تاریخی پہلو لکھا جائے۔اور اس لئے بھی نہیں کہ مجھے اُن سے بے حد محبت تھی ( اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس طرح میں اُن کی مجدائی کو برداشت کر رہی ہوں، بلکہ حق اور محض حق ہے کہ حضرت آقای جان کو خدا تعالیٰ نے سچے بچے اس قابل بنایا تھا کہ وہ اُن کو اپنے مامور کے لئے چن لے اور اس وجود کو اپنی خاص اہمت“ قرار دے کر اپنے مرسل کو خطا فرمائے۔صابر و شاکره | آپ نهایت در جہ صابرہ اور شاکرہ تھیں۔آپ کا قلب غیر معمولی طور پر صحات اور وسیلے تھا کیسی کے لئے خواہ اُس سے کتنی تکلیف پہنچی ہو آپ کے دل پر میل نہ آتا تھا۔کان میں پڑی ہوئی رنج وہ بات کو اس صبر سے پی جاتی تھیں کہ حیرت ہوتی تھی اور ایسا برتاؤ کرتی تھیں کہ کسی دوسرے کو کبھی کسی بات کے دوہرانے کی جرات نہ ہوتی تھی شکوہ چلی غیبت کسی بھی رنگ میں نہ کبھی آپ نے کیا نہ اس کو پسند کیا۔اس صفت کو اس اعلیٰ اور کامل رنگ میں کبھی کسی میں میں نے نہیں دیکھا۔آخر دنیا میں کبھی کوئی بات کوئی کیسی کی کر ہی لیتا ہے مگر زبان پر کسی کے لئے کوئی لفظ نہیں آتے سنا۔حضرت اماں جان نہ سے جہاں کسی نے مجلس میں کسی کی بطور شکایت بات شروع کی اور آنے شفقت فور آلو کا جیتی کہ اپنے ملازموں کی شکایت جو خود آپ کے وجود کے ہی آرام کے سلسلے میں تنگ آکر کبھی کی جاتی پیچھے سے سننا پسند نہ کرتی تھیں۔اپنے ملازموں پر انتہائی شفقت فرماتی تھیں۔آخری ایام میں جب آواز نکلنا محال تھا مائی عائشہ (والدہ مجید احمد مرحوم در ویش قادیانی ) کی آواز کسی سے جھگڑنے کی کان میں آئی۔بڑی مشکل سے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا اور بدقت فرمایا ٹائی کیوں روٹی ؟ " یکی نے کہا نہیں اتان جان روٹی تو نہیں یوں ہی کسی سے بات کر رہی تھی۔مگر جو در د حضرت آتاں جان کی آواز میں اُس وقت مائی کے لئے تھا وہ آج تک مجھے بے چین کر دیتا ہے۔آپ نے کئی لڑکیوں اور لڑکوں کو پرورش کیا اور سب سے بہت ہی مشفقت و محبت کا برتاؤ تھا۔خود