تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 108
۱۰۵ میری اولاد کو تو ایسی ہی کر دے پیارے یہ دیکھ لیں آنکھ سے وہ چہرہ نمایاں تیرا محمر دے ، رزق دے، اور عافیت و صحت بھی ؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفان تیرا اپنی ذاتی دعاؤں میں جو کلمہ حضرت اماں جائی کی زبان پر سب سے زیادہ آتا تھا وہ یہ سنون دعا تھی کہ : يا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَعِيتُ یعنی اسے میرے زندہ خدا اور میرے زندگی بخش آقا این تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتی ہوں یہ وہی جذبہ ہے جس کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر فرمایا ہے کہ سے تری رحمت ہے میرے گھر کا شہتیر مری جاں تیرے فضلوں کی پسند گیر جماعتی چندوں میں بھی حضرت اقای جان رضی اللہ عنہا بڑے ذوق و شوق مالی جہاد میں شمولیت سے حصہ لیتی ھیں اور بین اسلام کے کام میں ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ تبلیغ کو چندہ دیتی تھیں تحریک تجدید کا چندہ جس سے بیرونی ممالک میں اشاعت اسلام کا کام سرانجام پاتا ہے اُس کے اعلان کے لئے ہمیشہ ہمہ تن منتظر رہتی تھیں اور اعلان ہوتے ہی بلا توقف اپنا وعدہ لکھا دیتی تھیں بلکہ وعدہ کے ساتھ ہی نقد ادائیگی بھی کر دیتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں وعدہ جب تک ادا نہ ہو بجائے دل پر بوجھ رہتا ہے۔دوسرے چندوں میں بھی یہی ذوق و شوق کا عالم تھا۔صدقہ و خیرات اور غریبوں کی امداد بھی حضرت اماں جان نور اللہ مرقدها کا صدقہ و خیرات محمد نمایاں خلق تھا اور اس میں وہ خاص لذت پاتی تھیں اور اس کثرت کے ساتھ غیروں کی امداد کرتی تھیں کہ یہ کثرت بہت کم لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔جو شخص بھی ان کے پاس اپنی مصیبت کا ذکر لے کر آتا تھا حضرت اماں جان اپنے مقدور سے بڑھ کر اس کی امداد فرماتی تھیں اور کئی دفعہ ایسے خفیہ رنگ میں مدد کرتی تھیں کہ کسی اور کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔اسی ذیل میں ان کا یہ طریق بھی تھا کہ بعض اوقات تیم بچوں اور بچیوں کو اپنے مکان پر بلا کر کھانا کھلاتی تھیں اور بعض اوقات ان کے گھروں پر بھی کھانا بھجوا دیتی تھیں۔ایک دفعہ ایک واقف کار شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو کسی ایسے