تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 109 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 109

شخص (احمد نی یا خیر احمدی مسلم یا غیرمسلم) کا علم ہے جو قرض کی وجہ سے قید بھگت رہا ہو ا وائل زمانے میں ایسے سول قیدی بھی ہوا کرتے تھے) اور جب اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا کہ تلاش کرتا، یکن اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں تا قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کر سکوں کہ معذور قیدیوں کی مدد بھی کار ثواب ہے۔قرض مانگنے والوں کو فراخدلی کے ساتھ قرض بھی دیتی تھیں مگر یہ دیکھ لیتی تھیں کہ قرض سے مدد قرض مانگنے والا کوئی ایسا شخص کو نہیں جو عادی طور پر قرض مانگا کرتا ہے او ھر قرض کی رقم واپس نہیں کیا کرتا ایسے شخص کو قرض دینے سے پر ہیز کیا کرتی تھیں تا کہ اس کی یہ تیری عادت ترقی نہ کرے مگر ایسے شخص کو بھی حسب گنجائش امداد دے دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ میرے سامنے ایک عورت نے اُن سے کچھ قرض مانگا اس وقت اتفاق سے حضرت اماں جان کے پاس اس قرض کی گنجائش نہیں تھی مجھ سے فرمانے لگیں میاں ! دوہ اپنے بچوں کو اکثر میں کہ کر پکارتی تھیں تمہارے پاس اتنی رقم ہو تو اسے قرض دے دو یہ عورت لین دین میں صاف ہے یا چنانچہ میں نے مطلوبہ رقم دیدی اور پھر اس غریب عورت نے تنگدستی کے با وجود عین وقت پر اپنا قرض واپس کر دیا جو آجکل کے اکثر نو جوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔حضرت امان جان تورا الله مرقد ھا کو اسلامی احکام کے ینائی کی پرورش و تربیت ماتحت قسیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا میں نے جب سے ہوش سنبھاتے ان کے سایہ عاطفت میں ہمیشہ کسی نہ کسی قسیم لڑکی باڑ کے کوپلتے دیکھا اور وہ ٹیمیوں کو نوکروں کی طرح نہیں رکھتی تھیں بلکہ ان کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ اُن کے آرام و آسائش اور ان کی تعلیم و تربیت اور اُن کے واجبی اکرام اور عزت نفس کا بھی بت خیال رکھتی تھیں۔اس طرح ان کے ذریعہ بس یوں تیم بچے جماعت کے مفید وجود بن گئے۔بسا اوقات اپنے ہاتھوں سے تیموں کی خدمت کرتی تھیں مثلا یتیم بچوں کو نہلانا ، ان کے بالوں کو کی کھلی کرنا اور کپڑے بدلوانا وغیرہ وغیرہ۔مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گی کہ آنا و گا فیل الیتیم گھا نہیں ہے A CIVIL ه بخاری (کتاب الطلاق - كتاب الادب) مسلم (كتاب المزيد ) :