تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 73 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 73

فصل ششم جلیل العقد اصحاب کا انتقال راس سال متعدد جلیل القدر صحابہ نے انتقال کیا جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :۔ہے (ولادت اندازا بیعت ۲۳ نومبر ۱۸۶۹ ١- حضرت میاں خیر الدین صاحب لکھوائی : ۸۸۹ام وفات ، در امان ۳۳۳۸۸ مارچ ۱۹۴۹ بعمر انٹی سال) حضرت میر محمدی علیہ السلام کے ان اولین صحابہ میں سے تھے جن کو بہیت اولی سے بھی قبل حضور سے تعلق عقیدت و ارادت تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے تین سو تیرہ اصحاب کبا رمیں آپ کا نام آئینہ کیار کمالات اسلام میں ۹۸ نمبر پر اور ضمیمہ انجام آنھم میں ۳۲ نمبر بر درج فرمایا ہے۔ار میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے حکم ایک سہ رکنی وفد نمیدین کے آثار قدیمہ کی اس موقع پر چھان ہیں اور سفر مسیح ناصری کی مزید تحقیقات کے لئے تیار کیا گیا سیکھوانی برادران نے جومالی قربانی پیش کی اس پر خور حضرت ہیں موعود علیہ اسلام نے اپنے عظیم مبارک سے اظہار خوشنودی کیا اور تحریر فرمایا :- ان چاروں صاحبوں کے چندہ کا معاملہ نہایت عجیب اور قابل رشک ہے کہ وہ دنیا کے مال سے نہایت ہی کم حصہ رکھتے ہیں گویا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرح ہو کچھ گھروں میں تھاوہ سب لے آئے ہیں، اور دین کو آخرت پر مقدم کیا جیسا کہ بیعت میں شرط تھی کا ہے عمر میں جب حضور علیہ السلام نے مینارہ مسیح کے لئے اپنے غلام سے ایک ایک سو روپیہ چندہ کی ایک فرمائی تو حضرت میاں صاحے اور ان کے بھائیوں نے منے اپنی والدہ ماجدہ کے درخواست پیش کی کہ ہم اس چندہ میں شامل ہونا اپنی سعادت سمجھتے ہیں لیکن اِس قدر وسعت نہیں کہ ہم میں سے ه والد احمد مولوی قمرالدین صاحب کے اشتہار علیہ الوداع مشموله تبلیغ رسالت جلد ہشتم صدا