تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 74 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 74

۷۳ ہر ایک سو سو روپیہ دے سکے اس لئے ہم چاروں ہی ایک سور و پیر دیں گے اگر منظور فرمایا جاؤے۔حضور نے یہ درخواست منظور فرمالی اور جب خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں مینارہ اسی کی تکمیل ہوئی الله تو ان تینوں خوش نصیب بھائیوں اور ان کی والدہ کے نام مینارہ اسیج پر کندہ کئے گئے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام عموماً دوسروں کی اقتداء میں نماز پڑھا کرتے تھے لیکن بعض واقعہ آپ خود بھی نماز پڑھاتے تھے حضرت میاں خیر الدین صاحب کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ نے دو بار حضور کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ایک بار قبل از دعوی مسجد اقصی میں شام کی نماز جس کی ایک رکعت میں حضور نے سورۃ والتین کی تلاوت فرمائی۔دوسری دفعہ نمازظہر حضور کی اقتداء میں پڑھنے کا موقع ملا۔حضور مقدمہ کرم دین کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے جارہے تھے اور حضور نے یہ نماز بڑی نہ پر پڑھائی آپ نظام الوصیت سے بھی وابستہ تھے اور مجاہدین تحریک جدید میں بھی شامل تھے۔پنجگانہ نماز بلکہ تجد کا نہایت درجہ التزام رکھتے تھے۔روزوں کی پابندی میں اپنی نظیر آپ تھے۔۱۳۳۶ ۱۹۴۶ میں قادیان سے ہجرت کر کے جہلم شہر میں فروکش ہو گئے تھے جہاں گاڑی کے ایک حادثہ سے انتقال فرما گئے بیٹے ولادت جنوری ۱۸ ۲ - میان خیر الدین صاحب متوطن قادر آباد تحصل قادیان - بیعت خنشله ، زیارت 199 ه، وفات هم رو فاها مطابق ہر جولائی ۱۹۴۹ئر بمقام احمد نگر ضلع جھنگ) آپ کے والد میاں محمد بخش صاحب ابتداء میں ہی شامل احدیت ہو گئے تھے۔آپ کا گھرانہ گوری خاندان حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے زیر سایہ ہی رہتا تھا اور نہ صرف یہ کہ اس مبارک خاندان کے دوسرے افراد قادر آباد ( قادیان سے متصل ذیلی بستی میں جاتے اور مستری صاحب کو شرف خدمت حاصل ہوتا بلکہ ایک بار خود حضرت مسیح موعود و صدی معہود علیہ السلام تشریف لے گئے۔فرمایا کرتے تھے جب میں تجاری کا کام ه روایات صحا به غیر مطبوعہ جلد ۱۳ ص ۲۵ که روایات صحابه غیرمطبوعه جلد ۱۳ ص ۴۲ تا ۲۵۵۰ و جلد صدا تا صہ میں آپ کی بیان فرمودہ روایات محفوظ ہیں ؟ ۳ الفضل ، ۳۰ امان ۲۱۵ مث کالم ۲ ه الفضل ١٣ وفا ه۱۳۳۲ م کالم را : شه و شه رجسٹر روایات صحابہ جلد ع ص ۲۳ (غیر مطبوعہ ) الفضل ، اروفا ١٣٢٧ من كالم۔