تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 61
جاؤں گا یا اے اس خط پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ : معاف تو ہم نے کر دیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نے جھوٹ نہیں بولا اور منافق نہیں ہے میری صحت اچھی ہونے پر یک مجلس میں بلوا کر پیش کروں گا کہ یہ جھوٹ بول کر قادیان کو تباہ کر نیکی کوشش کرتا رہا اور منافق ہے " ہے جلسہ قادیان کے لئے پہلا پاکستانی قافلہ اس سال بھی سالانہ جلسه ادیان حسب دستور ۲۶ ۲۷ ۲۸ فتح ۱۳۲۸۵ / دسمبر ۴۱۹۲۹ کو منعقد ہوا جس میں علاوہ قادیان اور ہندوستان کی دیگر جماعتوں کے شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمد یہ لاہور کی قیادت میں کہیں پاکستانی احمدیوں کا ایک قافلہ بھی شامل ہوا اور اس مقدس و مبارک اجتماع کی برکات سے مستفید ہوا۔اس پہلے پاکستانی قافلہ کے مستند حالات و کوائف حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے دریج ذیل کئے بہاتے ہیں :- قادیان جانے والے قافلہ کے لئے قری؟ :: درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے حکومت کی مقرر کردہ حد بندی کے ماتحت عروہ پہنچا اس کا انتخاب کرنا تھا چنانچہ پچاس افراد کا انتخاب کر کے انہیں اطلاع دی گئی کہ ۲۳ دسمبر کی شام تک سب لوگ لاہور پہنچ جائیں چنانچہ یہ جبکہ کچھ اس انسداد ۲۴۰ دسمبر کی شام تک لاہور پہنچ گئے۔ان میں تین کوڑھی دیہاتی عورتیں بھی شامل تھیں جو مقدس مقامات کی زیارت کے علاوہ اپنے بچوں کو ملنے کے لئے دبا رہی تھیں جو اس وقت قادیان میں در دنیشی زندگی کبیر کر رہے ہیں۔حسن اتفاق سے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بھی ایک تقریب کے تعلق میں۔تاریخ کی شام کو لاہور تشرلی لے آئے اور قافلہ کی روانگی کے خیال سے ۲۵ تاریخی کی صبح کو بھی لاہور میں ٹھہر گئے چنانچہ حضور کی نہایت دردمندانہ اور پرسوز دعاؤں کے ساتھ یہ پچاس افراد کا کے اصل خدا شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے؟ سے حضور کا یہ ارشاد بھی شعبہ تاریخ احمدیت میں محفوظ ہے نیز الفضل میں شائع شدہ ہے ؟