تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 60 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 60

۵۹ بے سروپا الزامات کا مجموعہ تھا۔دوران بیان اس نے عدالت کو بھی بتا یا کہ وہ حضرت خلیفہ ایسے کے حکم کی تعمیل کے لئے ہر وقت تیار ہے اگر اس ذاتی معاملہ میں ان کا کوئی حکم نہیں مان سکتا۔اللہ رکھا کی طرف سے منوہر سنگ، پر تم سنگھ اپناہ گیر اور ماسٹر رام سنگھ اور ریشم سنگی منشی جو کی پر نہیں قادیان نے گواہی دی۔اور درویشوں کی طرف سے بٹالہ کے دو وکیل بخشی سائیں داس صاحب اور لالہ رام من صاب ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے مگر انہیں پہلے دانی وحی اور اس کے گواہوں پر جرح کرنے کا موقع نہیں ملا۔درویشوں نے ہ۳۔نومبر ۱۹۳۹ئر کو شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور اور صدر بار ایسوسی ایشن لاہور کی لکھی ہوئی ایک مدلل بحث بھی عدالت میں پیش کی مگر مجسٹریٹ صاحب نے اس پر کوئی توجہ دینے کی بجائے باقی بحث بند کرا دی اور درویشوں کو ایک ایک ہزار کی ضمانتیں پیش کرنے یا انہیں ایک ایک سال قید کئے بجانے کا فیصلہ سناد یا غریب درویش بھلا ہو میں ہزار روپے کی رقم کہاں سے لاتے انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ضمانت کے لئے کوئی رقم نہیں ہاں وہ جائیداد ضرور ہے جس پر اس وقت حکومت مشرقی پنجاب کا قبضہ ہے چنا نچہ مجسٹریٹ نے یہی ضمانت قبول کرلی۔جو درویش اپنی جائیدادیں نہ رکھتے تھے ان کی طرف سے بھائی شیر محمد صاحب ، میاں عبدالرحیم صاحب امانت سوڈا واٹر اور ڈاکٹر عطر دین صاحب نے اپنی جائیداد میں بغرض ضمانت پیش کر دیں مقدمہ کے فیصلہ کے ایک ماہ بعد یکم جنوری شائمہ کو الہ رکھا قادیان چھوڑ کر پاکستان پہلا آیا اور اس مقدس نیستی کی فضا اس فتنہ سے ہمیشہ کے لئے پاک ہو گئی۔اللہ رکھانے پاکستان پہنچ کر حضرت مصلح موعودہ کی خدمت میں حسب ذیل خط لکھا:۔}} بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم سید نا حضرت اقدس امیر المومنين السلام علیکم بنده مظلومیت کی حالت میں حضور کی خدمت میں حضور کے ارشاد کے مطابق امیر صاحب قادیان کی اعجاز سے آیا ہے اور تصور کے ارشاد کے مطابق قادیان رہتا تھا۔قادیان سے کبھی بھی منہ پھر انہیں سکتا۔قادیان میرا مقدس شہر میرے پیارے حضر مسیح موعود کا مقدس شہر اور وہاں آپ کا مزار اور مذہبی یادگاریں ہیں جہاں ہم لوگ جاتے ہیں۔کہیں احمد ہی ہوں حضرت مسیح موعود کو مانتا ہوں اور خلیفہ وقت کو مانتا ہوں آپ بھی اگرینی انے چاہا تو حضور کے ارشاد سے ہی قادیان جاؤں گا حضور کی ناراضگی میں نہیں