تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 62
۶۱ قافلہ ہر یکے موٹر ٹرانسپورٹ کمپنی کی ڈولاریوں میں لاہور سے روانہ ہوا۔یہ قافلہ رتن باغ سے ۲۵ تاریخ کی صبح کو نو بجے روانہ ہوا اور قافلہ کی کل تعدادہ تھی کیونکہ پچاس ممبر ان قافلہ کے علاوہ دو ڈرائیور اور دو کلیہ کنڈ کٹڑ بھی اس قافلہ میں شامل تھے۔رستہ میں کچھ وقت رکنے کے بعد قافلہ قریبا ساڑھے ہیں بجے بارڈر پر پہنچا جہاں مسٹر اے جی چیمہ مجسٹریٹ درجہ اول اور مسٹر الیں۔ایس جعفری ڈپٹی کمشنر لاہور چی درجہ انہیں رخصت کرنے کے لئے پہلے سے پہنچ چکے تھے۔قافلہ کو الوداع کہنے کے لئے بہت سے دوست بارڈر تک ساتھ گئے ان لوگوں میں یہ خاک ، بھی شامل تھا اور وہاں ہم سب نے روانگی کی آخری دعا کر کے اپنے بھائیوں کو رخصت کیا۔میری گھڑی کے مطابق ہمارے قافلہ نے دس بج کو سینتیس منٹ پر پاکستان اور ہندوستان کی سرحد کو عبور کیا اور پھر ہم تھوڑی دیر تک ان کی لاریوں کو دیکھتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے لاہور واپس آگئے۔جیسا کہ پہلے سے پروگرام مقرر تھا اس قافلہ نے ۲۵ دسمبر کو قادیان جاکر ۳۰ دسمبر کو واپس آنا تھا چنانچہ یہ قافلہ دو بجے بعد دو پہر قادیان پہنچ گیا اور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں جا کر حضرت مسیح موعود عليه الصلاة و السلام کے مزار پر دعا کی جہاں قادیان کے بہت سے دوست قافلہ کے استقبال کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔ایک طرف تو بچھڑے ہوئے بھائیوں سے ملاقات دوسری طرف قادیان کا ماحول اور تیسری طرف بہشتی مقبرہ کا مقام ان سب باتوں نے مل کر اس دعا میں وہ سوز و گداز پیدا کر دیا جو اہل قافلہ کی رپورٹ کے مطابق صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔بہر حال ہمارے یہ دوست تیس دسمبر کی صبح تک قادیان میں ٹھہرے اور جلسہ کی شرکت کے علاوہ جو حسب دستور ۲۶ ، ۲۷، ۲۸ تاریخوں میں مقرر تھا ان ایام کو مقامات مقدسہ میں خاص دعاؤں اور عبادت میں گزارا۔اور سب واپس آنے والے وست بلا استثناء کہتے ہیں کہ قادیان کے جملہ درویش اپنی جگہ نہایت قربانی اور لکیت کے جذبہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے اوقات دعاؤں اور نوافل سے اس طرح معمور ہیں جس طرح ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا پانی سے بھر جاتا ہے۔اور سب درویش یہ عزم رکھتے ہیں کہ خواہ موجودہ حالات میں ان کا قادیان کا قیام کتنا ہی لمبا ہو جائے وہ انشاء اللہ پورے صبر اور استقلال اور قربانی کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہیں گے بلکہ ان میں سے بعض نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ جب ہم خود انتہائی خوشی اور رضا اور روم کے ساتھ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے بعض پاکستانی رشتہ داروں کو ہماری جبہ