تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 59 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 59

۵۸ ۱۹۴۹ ہنگامہ آرائی کے نت نئے سے نئے ڈھنگ بتاتے۔اس سلسلہ میں انہوں نے اس شخص کو یہ بیٹی پڑھائی کہ وہ درویشوں کی بر سر عام بازاروں میں توہین و تحقیر کرے چنانچہ اس کے مطابق ماہ جولائی شاہ کے آخر میں اس نے یہ شرارت کی کہ بازار سے گذرتے ہوئے ایک احمدی درویش کو پکڑ لیا اور اسے نہایت درجہ فحش اور بازاری گالیاں دیں اور پھر رات کو ایک کوٹھے پر چڑھ گیا اور یہ فخریانہ پراپیگنڈا کرنا شروع کہ دیا کہ احمدیوں نے گذشتہ فسادات میں غیر مسلموں کا قتل عام کیا ہے اور سلامی خلال غیرمسلم کوموت کے گھاٹ اتارا ہے۔ران افترا پردازیوں نے جو مسلسل کئی ماہ سے جاری تھیں ستمبر ۱۹۲۹ میں ایک تکلیف دہ مقدمے کی شکل اختیار کر ا پنا پنکہ اللہ رکھا نے سردار مولک سنگے سابق ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں سند رسمہ 1609 ذیل میں درویشوں کے خلاف زیر دفعہ۔مقدمہ دائر کر دیا :۔زیر ۷۔۔ن ا خان فضل اللى صاحب امور عامه و منش محمد صادق صاحب مختار عام ۳ - مولوی برکات احمد صاحبہ، راجیکی بی اسے ناظر ا مواد عامہ ہم۔ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے مؤلف اصحاب احمد - مولوی برکت علی صاحب جنرل پریزیڈنٹ جماعت احمدیہ قادیان 4 چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی صوفی عبد القدیر صاحب - خواجہ عبد الكريم منا و محمد اشرف صاحب گیرانی 1 محمد مکی صاحب سرساوی 11 محمد رفیق صاحب سرساوی ۱۲ - میر - 1A فیع احمد صاحہ ۱۳- محمد ابراہیم صاحب خادم ۱۴ محمود احمد صاحب سر گو دھی عبد الحمید صاحب دکاندار ۱۶ بیمار کی عملی صاحب کمپونڈ ۱۷- مولوی محمد عبد اللہ صاحب ۱۸ - سلطان احمد صاحب کھاریان) ( یہ درویش مقدمہ کی کاروائی شروع ہونے سے قبل انتقال فرماگئے تھے ) 19- شیر خد صاحب پٹھان ۲۰- چوم کو سعید احہ صاحب جبار ۲۱ کیپٹن ڈاکٹر احمد بشیر احمد صاحب ۲۲ مستری غلام قادر صاحب ۲۳ - بدر بین صاحب عامل ۲۴۳- افتخار احمد صاحب الشریف ۲۵ شیر سر صاحب ٹھیکیدار بھدا۔- احمد تمبر 19 کو منہ کی باضابطہ کارروائی بٹالہ میں شروع ہوئی۔عدالت نے ان درویشیوں کو نوں باری کیا کہ وہ بیان کریں کہ کیوں آپ سے ایک سال کے لئے ہزار ہزار روپے کی ضمانت حفظ امی شدنی بیانے درویشوں کے عمارت دینے سے انکار کیا جس پر اللہ رکھا کا بیان ہوا ہو بے بنیاد اور