تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 58
شرمناک روش بدلنے کی طرف توجہ دلائی مگر جب اس کی روش میں پہلے سے زیادہ اشتعال اور تیزی کا رنگ پیدا ہو گیا تو حضور نے اس فتنہ پرورت مقاطعہ کرنے کا حکم دے دیا نیز ہدایت فرمائی کہ درویش اسے اپنے حلقہ میں داخل نہ ہونے دیں حضور نے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل اعلان مقاطعہ کیا جو افضل 4 ظور ۳۲۰ اگست ۱۹۴۷ ئہ کے الفضل میں بھی شائع ہوا :- میاں اللہ رکھا سیالکوٹی حال قادیان چونکہ جماعت میں فتنہ پیدا کرتے ہیں اور جماعتی نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے لیکن اس اعلان کے ذریعہ انہیں اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں اور قصد سے بچنے کے لئے تمام احمدیوں کو حکم دیتا ہوں کہ ان سے سلام کا م بند رکھیں اور اپنی مجالس میں آنے کی اجازت نہ دیں تاکہ وہ خواہ مخواہ جماعت کی بدنامی کی کوئی صورت پیدا نہ کر دیں۔میں ان کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ان کے اندرا گر ذرہ بھی ایمان کا باقی ہے تو اس سے باز آجائیں اور اپنی حرکات کو چھوڑ دیں اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو ان کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہو گا اور وہ اپنی عاقبت آپ خراب با کریں گے۔مرزا محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی " اگر چہ شیخص مبالعین کی طرف منسوب ہوتا تھا لیکن دل سے خلافت کا ہی منکر تھا اس لئے اُس نے حضور کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کے لئے علی الاعلان کہنا شروع کر دیا کہ وہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی کو خدا کا برحق تخلیفہ مانتا ہے لیکن اس ذاتی معاملے میں ان کی بات پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں۔اور ساتھ ہی اس نے اپنے مکان کی چھت پر درویشوں کے خلاف نہایت بد زبانی اور بد کلامی کا مظاہرہ کرنا شروع کیا۔چند دن بعد سلسلہ احمدیہ کے مخالفوں کی شہ پر ایک پھٹا ہو اعلی لے کر دار ایسے کے بیرونی دروازے پر پہنچ جاتا اور زبردستی اند رکھنے کی کوشش کرتا نیز کہتا وہ احمدی ہے اس کو کوئی مخارج نہیں کر سکتا اور اس کا حق ہے کہ وہ بھی مقامات مقدسہ کی زیارت کرے اور مساجد میں عبادت بجالائے۔دار ایج کے اندر جانے میں جب کامیابی نہ ہوتی تو وہ دفتر تحریک جدید کے سامنے مصلی بچھا لیتا جہاں نماز تو کم پڑھتا لیکن خدا کے درویش بند وں کو گالیاں زیادہ دیتا۔درویش یہ المناک نظارہ دیکھ کر بہے ہیں رہ جاتے اور سلسلہ کی روایات اور ہدایات کے مطابق صبر وتحمل کے دامن کو نہ چھوڑتے۔معاندین احمدیت روزانہ اپنی آنکھوں سے یہ مظاہرے دیکھ کر بڑی خوشی کا اظہار کرتے اور اسے