تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 57 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 57

۵۶ اُوپر کی باتوں سے واضح ہے کہ بر ملاظلم وتشد داور لوٹ مار کا دور دورہ تو آب بظاہر گذر چکا ہے لیکن اس کی جگہ ایسی پالیسی نے لے لی ہے جسے مخفی گر منظم تشد دکا نام دیا جاسکتا ہے۔بہر حال ہماری اصل اپیل خدا کے پاس ہے اور وہی انشاء اللہ اپنی جماعت کا حافظ و ناصر ہوگا اور درمیانی ابتلاء خواہ کوئی بھی صورت اختیار کریں آخری فتح و ظفر یقینا خدا کے نام کی ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکتی وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَظِيم۔Lee دشمنان اسلام واحمدیت کا ایک معاندان اسلام کا وہ طبقہ دورہ یشوں کواپنے محبوبہ مقدس مرکز سے بے دخل کرنے کی سازشوں میں تباہ گن منصو بہ اور اُس کی ناکامی مصروف چلا آرہا تھا ۱۹۴۹ء میں اللہ رکھا نامی ایک منافق کو احمدی آبادی کے خلاف کھڑا کر کے اپنے مذموم اور ناپاک منصوبہ کی کامیابی کے خواب دیکھنے نگا۔اللہ رکھا گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ کا باشندہ اور حضرت میر محمد الحق صاحب کے زمانہ میں دار الشیوخ قادیان میں رہا کرتا اور اس ادارہ کے لئے مختلف دیہات سے آٹا اکٹھا کر کے لایا کرتا تھا۔فسادات ۱۹۴۷ء میں یہ شخص قادیان سے اپنے گاؤں چلا آیا لیکن چند ماہ بعد جماعتی اجازت کے بغیر غیر آئینی صورت میں ہندو پاک سرحد پار کر کے قادیان پہنچ گیا۔مقامی جماعت نے اُسے ہر طرح سمجھایا کہ وہ واپس چلا جائے اور باضابطہ اجازت لے کر آئے مگر وہ تو مخالفین احمدیت کا آلہ کار تھا بھلا کیسے چلا جاتا۔جہاں دشمنانِ احمدیت کی نگاہ میں دوسرے تمام درویش خار کی طرح کھٹکتے تھے اور ان کا قادیان میں رہنا انہیں گوارا نہیں تھا وہاں اس شخص کی غیر قانونی آمد پر کبھی اعتراض نہیں اُٹھایا بلکہ اُسے اُن کی ہمیشہ پشت پناہی حاصل رہی۔اللہ رکھانے قادیان کے نظام احمدیت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے سب سے پہلے وہی حربہ جماعت کے خلاف استعمال کرنا شروع کیا جو خلفائے راشدین اور خلافت راشدہ کے دشمنوں کا طرہ امتیاز رہا ہے یعنی اُس نے قادیان پہنچتے ہی صدر انجمن احمدیہ کی مرکزی شخصیتوں کو برسر عام اعتراضات کا نشانہ بنانے کی با قاعدہ مہم جاری کر دی جس پر حضرت مصلح موعودؓ نے ایک تحریری پیغام کے ذریعہ اسے اپنی روزنامه الفضل ۲۰ / اجرت ۱۳۲۸ هش مئی ۱۹۴۹ء ص ۲ -