تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 56 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 56

زیادہ توجہ ہوتی ہے کیونکہ یہی اس کی غرض و غایت ہے اور سیاسی نوعیت کے مضامین بہت کم ہوتے ہیں باوجودان حالات کے الفضل کا فسادات کے بعد تو جاری رہنا مگر آب آکر بند کیا جانا حکومت کی تبدیل شدہ پالیسی کی ایک واضح دلیل ہے۔(۲) قادیان جماعت احمدیہ کا مقدس مقام ہے اور دُنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے کہ ہر قوم اپنے اپنے مقدس مقامات کی خدمت اور احترام کے لئے تحائف اور ہدایا اور مالی نذرانے بھیجا کرتی ہے اور آج تک دنیا کی کسی مہذب حکومت نے اس قسم کے مالی یا جنسی تحائف میں روک نہیں ڈالی اور اس وقت تک قادیان میں بھی اس قسم کے تخالف جاتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں بعض ان منی آرڈروں کو جو باہر سے قادیان بھجوائے گئے تھے ہندوستان کی حکومت نے روک لیا ہے حالانکہ جو احمدی قادیان میں بیٹھے ہیں اُن کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ ان کی سب جائیدادیں ان کے ہاتھ سے چھینی جا چکی ہیں۔پس ان حالات میں بیرونی منی آرڈروں کو روکنا مقامی مسلمان آبادی کو بھو کے مارنے کے مترادف ہے۔(۳) قادیان میں سالہا سال سے یعنی تقسیم پنجاب سے بھی پہلے سے حکومت جماعت احمدیہ کو اس بات کی اجازت دیتی رہی ہے کہ وہ لنگر خانہ اور دوسرے احمد یہ اداروں کے لئے اکٹھی گندم خرید لیا کریں لیکن اس سال حکومت مشرقی پنجاب نے اس بات کی اجازت نہیں دی اور ہدایت جاری کی ہے کہ ہر احمدی اپنا الگ الگ راشن کارڈ حاصل کرے جس کی غرض سوائے اس کے کوئی نظر نہیں آتی کہ قادیان کے احمدیوں کی خوراک کے مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں محفوظ کر لیا جائے۔ہمارے دوستوں کی طرف سے یہ دلیل پیش کی گئی کہ جو نظام سالہا سال سے چلا آیا ہے اسے اب بدلنے کی کوئی وجہ نہیں۔اور انفرادی راشن کارڈوں میں یہ خطرہ بھی ظاہر ہے کہ ہر شخص کو اپنا علیحدہ علیحدہ راشن لینے کے لئے بازار جانا ہوگا جس میں ٹکراؤ کے امکانات بڑھ جائیں گے۔اور پھر جب قادیان کی احمدی آبادی معین ہے اور اس میں حکومت کی اجازت کے بغیر کمی بیشی نہیں ہو سکتی تو پھر اکٹھی خرید کی اجازت دینے میں یہ خطرہ بھی نہیں ہو سکتا کہ ضرورت سے زیادہ گندم خرید کی جائے گی یا کہ خرید کے بعد ضائع کر دی جائے گی۔علاوہ ازیں گندم کا جو بھی ذخیرہ ہوگا وہ بہر حال قادیان میں ہی رہے گا اور حکومت کی نظروں کے سامنے ہوگا مگر باوجود ان معقول دلیلوں کے گورنمنٹ نے اپنے حکم کو نہیں بدلا اور ابھی تک یہ اصرار کر رہی ہے کہ ہر احمدی انفرادی راشن کارڈ حاصل کرے۔