تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 55
۵۴ محنت اور جانفشانی سے اس علاقہ کی جماعتوں کو از سر کو منظم کیا اور اُن کا باقاعدہ سروے کر کے احمدی افراد کی فہرستیں تیار کیں۔قادیان کے متعلق حکومت کی پالیس میں تبدیلی بجائے اس کے بھارتی حکومت ہندوستان اس کہ۔۔احمدیوں کی درخواست پر ہمد روانہ غور کر کے حق و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی اس نے اپنی پالیسی میں اور زیادہ سخت گیری اور سختی پیدا گردی اور براہ راست درویشوں پر بعض نئی پابندیاں عائد کر دیں۔لکھا:۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے انہی دنوں اس صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے قادیان میں ایک بظا ہر نارمل حالات پیدا ہو رہے ہیں اور ہمارے دوستوں کو نقل و حرکت کی کافی سہولت بھی گئی ہے لیکن حالات کے گہرے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبدیلی ابھی تک کسی طرح تسلی بخش نہیں بھی جاسکتی حقیقتا یہ تبدیلی کے قوم کے اقتدار کی جگہ ہندو قوم کے اقتدار کا رنگ رکھتی ہے جبتک سیکھ قوم اور سکھ پالیسی کا غلبہ رہا قادیانی اور اس کے ماحول میں بر بلا ظلم و تشدد اور لوٹ مار کا منظر نظر آثار ہا لیکن اب آہستہ آہستہ اس منظر نے بدل کر مہند و اقتدار کی پالیسی کو جگہ دے دی ہے جس میں بظا ہر نارمل حالات کا دور دورہ نظر آتا ہے اور بہتری کی جائے تنظیم کے حالات دکھائی دیتے ہیں کی تنظیم کے اس ظاہری پردہ کے پیچے نقصان پہنچنے کی منظم ایسی نظر آ رہی ہے۔چنانچہ نئے دور میں حکومت کی پالیسی نے تین ایسی باتوں کو چنا ہے جو وپس کی تبدیلی کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہیں یہ (1) قادیان میں یا یوں کہنا چاہئیے کہ مشرقی پنجاب میں الفضل کا داخلہ حکومت مشرقی پنجاب کے حکم کے ماتحت بند کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمارے قادیان کے دوست حضرت امیرالمونین خلیفہ المسیح ایدہ کے خطبات اور جماعتی تحریکات اور احمد پیشنوں کی رپورٹوں وغیرہ سے کلیہ محروم ہو گئے ہیں یا بالفاظ دیگر جماعت کی نذہ تنظیم کے مرکزی نقطہ سے بالکل کاٹ دئے گئے ہیں۔بظاہر اس حم کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ الفضل میں ایسی باتیں شائع ہوتی ہیں جو حکومت ہندوستان کے مفاد کے خلاف ہیں لیکن ظاہر ہے کہ افضل کی پالیسی میں کوئی نئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی بلکہ فسادات کے بعد سے ایک ہی پالیسی چلی آرہی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ آب الفضل میں پہلے کی نسبت زمینی مضامین کی طرف