تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 54
۵۳ میں موجود ہیں ایسے پندرہ ہیں بچے منگوائیے اور پرائمری سکول کھول دیجیئے۔دس مہیں نوجوان باہر سے وقت کی تحریک کر کے دیہاتی مبلغ بنانے کے لئے منگوا لیے اور مدرسہ احمدیہ قائم کر دیجئے۔اگر پرانا پر لیں نہیں ملا تو نئے پولیس کی اجازت لیجئے۔دستی پرلیں پتھروں والا ہو یہ سود و سو میں آجاتا ہے بلکہ خود قادیان میں بنوایا جا سکتا ہے اس پر ایک پرچہ ہفتہ وار چھاپنا شروع کر دیئے آپ لوگوں کے لئے کام اور شغل نکل آئے گا۔کچھ لوگ کا تب بن جائیں گے کچھ کا غذ لگانے والے اور سہتی چلانے والے بن جائیں گے اور کئی لوگوں کے لئے کام نکل آئے گا۔آبادی بڑھے گی تو تعالی جگہوں کو دیکھ کر لوگوں کو جو لالچ پیدا ہو جاتا ہے وہ بھاتا رہے گا اور جو خالی ٹکڑے پڑے ہیں ان میں نئی عمارتیں بن جائیں گی۔مسوه د حکیم خلیل احمد صاحب میرے خیال میں اگر وہاں آجائیں یا اور کوئی حکیم تو ایک مطلب بھی کھول دیا جائے اور ایک طبیبہ کلاس کھول دی جائے دیہاتی مبلغ بھی طلب سیکھیں اور مرزا وسیم احمد صاحب بھی طب سیکھ لیں اور ایک بہت بڑا دواخانہ کھول دیا جائے جس کی دوائیں سارے ہندوستان میں جائیں خدا چا ہے تو لاکھوں کی آمدنی اس ذریعہ سے ہو سکتی ہے۔یہ خط تمام ممبران انجمن کو شناویں تا سب لوگ اس سکیم کو اپنے سامنے رکھیں اور جلد سے جلد اس سکیم کو پورا کرنے کی کوشش کی بجائے " نہ سید نا حضرت مصلح موعود نے 4 شہادت ۱۳۲۸ / اپریل ۱۹۴۹ئر کو بذریعہ مکتوب ارشاد فرمایا کہ ہندوستان کی جماعتوں کو منظم کرنے کی جو میں نے ہدایت دی ہے اس کے بارے میں یاد رکھیں کہ سب سے اول یو پی بمبئی ، بہار اور مدراس کے چند سے جمع کرنے پر زور دیں نیز سب جگہوں پر سالانہ جلسے کرانے اور قادیان کے لئے زندگی وقف کرنے پر زور دیں جو اپنے بال بچوں سمیت رہیں۔اسی طرح ہندوستان کے احمدی نوجوانوں کو تبلیغ کے لئے وقف ہونے کی تحریک کریں۔حضور نے اس مکتوب میں یہ بھی حکم دیا کہ قادیان میں تبلیغی کالی کھول دیں تا ہندوستان میں تبلیغ وسیع ہو سکے۔صدر انجین احمدیہ قادیان ہندوستانی جماعتوں کی تنظیم کے لئے اس سال صرف یہ قدم اٹھا سکی کہ نظارت بیت المال کی طرف سے مولوی تمام احمد صاحب ارشد کولو پی بھجوا دیا جنہوں نے بڑی۔سے مثل ۳۶ دفتر خداست در ویشال براده به