تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 53 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 53

۰۵۲ فلاں تاریخ کو قادیان سے روانہ ہونا چاہتے ہیں ان ہر دو صورتوں میں سرکاری سطح پر حفاظتی انتظام فرمایا جائے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ ایسیح الثانی نے بن خلیفتہ المسیح الثانی نے ۱۵ ۱۶ نبوت ۱۳۶۵/ نومبر ۱۹۴۶ کو مولوی عبد ال جیر صاحب جنٹ امیر جماعت احمدیہ قادیان کے نام حسب ذیل مکتوب تحریر فرمایا :- لسہ قریب آرہا ہے آپ آپ کو پوری طرح کوشش کرنی چاہیئے کہ مختلف جگہوں سے کی ہیں تیں آدمی کم سے کم مستقل مہاجر ہو کر قادیان آجائیں اور کہیں تین آدمیوں کو قادیان سے فارغ کی کے او سر بھجوا دیا جائے کیونکہ غالباً اتنے لوگ وہاں ہیں جو ادھر آنا چاہتے ہیں۔یا ان کے مالیات ایسے ہیں کہ ابن کو ادھر بھیجوا دینا چاہیئے۔اس طرح دس بارہ نوجوانوں کو بلوا کر دیہاتی مبلغوں کی طرح تعلیم دینی چاہیئے۔بلکا نہ، مالابار ، ہان اور بنگال سے ایسے آدمی منگوانے چاہئیں اس طرح کے۔اضلاع سے اور جو موجودہ دیہاتی مبلغ ہیں وہ تین سال سے پڑھ رہے ہیں ان کو باہر بھجوانا چاہیئے تا وہ کام کریں۔پہلے موجودہ جماعتوں کو سنبھالنے اور ان کو بڑھانے کی کوشش ہونی چاہیئے اسکے بعد نئے نئے تبلیغی مرکز مختلف صوبوں میں کھولنے چاہئیں یہ وقت انتہائی کوشش کا ہے کوئی مشکل نہیں کہ اگر آپ لوگ توجہ کریں تو سال ڈیڑھ سال میں لاکھ دو لاکھ کی جماعت ہندوستان میں پیدانہ ہو جائے۔اگر ایسا ہو جائے تو چھ سات لاکھ سالانہ کی آمد آسانی سے قادیان میں ہوتی رہے گی جو زمانہ کے ساتھ بڑھتی چلی جائے گی اور آپ لوگ پھر مدرسہ احمدیہ دینیات کا بھی ہائی سکول و تعلیم الاسلام کالج وہاں بنانے کی توفیق پالیں گے۔جو زمانہ زندہ رہنے کی کوشش کا تھا اللہ تعالیٰ نے خیریت سے اس زمانہ کو گذار دیا ہے آپ آپ نے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے۔نئے ماڈل سوچنے کا ابھی سوال نہیں قادیان میں جو کچھ پہلے تھا اسے دوبارہ قائم کرنے کے لئے کسی کیم کے سوچنے کی ضرورت نہیں وہ سکیم تو سامنے ہی ہے اس کے لئے صرف ان باتوں کی ضرورت ہے:۔اقول : قادمان میں عورتوں، بچوں کا مہیا کرنا، اڑیسہ، کانپور اور بہار میں بہت غریب عورتیں مل جاتی ہیں جو شادیاں کر سکتی ہیں اُن کی اِن علاقوں میں شادیاں کروائیے اور قادیان میں عورتیں ہوائیے۔دوم : ہزاروں ہزار مسلمان جو مارا گیا ہے ان کے بیوی بچے ابھی دہلی اور اس کے گردو نواح