تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 46
۴۵ اور کلیسا کے دوسرے مذہبی راہنماؤں کو بذریعہ اشتہاری دعوت مذاکرہ دی مگر پوپ کے سیکرٹری کی رسید کے سوا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔۱۳۳۰ ر میں آپ نے اشاعت اسلام کے حلقہ کو وسیع حلقہ اشاعت اسلام میں وسعت کرنے کے لئے متعد نئے اقدامات کئے مثلاً ہر اتوار کو اسلامی لٹریچر کا سٹال لگانا شروع کیا جس سے تبلیغ کی نئی راہیں کھیلیں گلاسگو کی لائبریریوں میں اسلامی لڑ پر رکھوایا اسے مکرو سیم سیفی صاحب رئیس التبلیغ مغربی افریقہ اور پھر کر ملک عمر علی صاحب کے ہمراہ آپ نے تبلیغی دورہ کیا اور یہوواہ ٹینس ( JEHOVA WITNESSES ) فرقہ کے لوگوں سے گفت گو کی حدة اس سال مسٹر بشیر آچرڈ نے عرشہ جہاز کے مسلمان عملہ سے بھی رابطہ قائم کیا۔حضرت سیٹھ عبد اللہ الہ دین حنا نے اسلام اینڈ میں ( ISLAM AND PERCE ) کے دونستے مشن کو بھجوائے تھے جو آپ نے غیر مسلموں تک پہنچائے۔علاوہ ازیں اپنے بہت سے مضامین سائیکلوسٹائل کر کے کتابی صورت میں شائع کئے۔ان مضامین میں اسلام اینڈی سے اور کرسچین اویک کے خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مؤخرالذکر مضمون کا عربی ترجمه اسْتَيْقِطُوا اَيُّهَا الْمَسِيحِتُونَ " کے عنوان سے فلسطین کے رسالہ البشرا کے میں بھی شائع ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی کوششوں میں برکت ڈالی اور ماہ فتح ۲۹ سے لے کر باہ شہادت ه تیک تیمی سعید رو میں قبول اسلام سے مشرف ہوئیں بیعت کرنے والوں میں دو لوگینڈ کے ہاشندے اور ایک سکائش تھا۔انجاہد گلاسگو مسٹر بشیر آرچرڈ شروع سے ہی نہایت قلیل رقم پر گزارہ کو ہے مبلغ اسلام کا ایثار تھے۔مر ظہورن (مطابق اگست ۱۹۴۹ء) کو ایک نومسلم انگریز در کے ہاں آپ کی شادی ہوئی جس سے آپ کے اخراجات میں اضافہ ہوا تاہم آپ نے مرکز سے اپنے مشاہرہ ه بعنوان HIGH DIGNITARIES" TO THE POPE · AND ISLAM AND PEAce ✓ "A CHALLANGE CHRISTIAN AWAKE ✓ که رساله البشری فلسطین اسناد و نبوت ۱۳۳۲ صفحه ۱۶۲ تا ۱۷۶ : شہ ان میں سے مسٹر بی ٹار زویکا ( MR۔B۔TOR EVERA ) کو پہلے ایمان نصیب ہوا۔سیدنا حضرت الصلح الموعود نے ۱۸ر امان ۱۳۳۲ کو ان کی نسبت اپنے قلم مبارک سے لکھا۔انعام اللہ نام رکھیں "