تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 398
۳۹۲ شروع کر دیا مگر مشتعل ہجوم اپنی اسن شکن حرکات میں تیز تر ہوتا گیا۔احمدیوں کو سختی سے روک دیا گیا تھا کہ وہ کسی گالی نیا کمینہ حرکات کا جواب تک نہ دیں بلکہ صبر سے کام لیں چنانچہ احمدیوں نے اس ہدایت پر پوری طرح عمل کیا جب صورت حال قابو سے باہر ہونے لگی تو پولیس نے چند سرغنوں کو ہتھکڑیاں لگا دیں مگر جلسہ گاہ سے باہر نہیں لے جاسکی۔ڈیوٹی مجسٹریٹ صاحب نے یہ محسوس کر کے کہ صورت سرمائی ان کے قابو سے باہر ہے جلسہ بند کرنے کا حکم دے دیا اور ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ اب جلسہ نہیں ہو گا لوگ چلے جائیں۔اب جماعت احمدیہ نے تو ڈیوٹی مجسٹریٹ صاحب کے اعلان پر جلسہ بند کر دیا مگریہ شوریدہ سر اس مقام پہ جماعت احمدیہ اور جماعت کے بزرگان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیزی اور دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے رہے اور پھر سارے شہر کا چکر لگا کر احمدیوں کی دکانوں اور مکانوں کے سامنے کھڑے ہو کر خاص طور پر اشتعال انگیز اور دل آزار نعصر سے لگائے۔چونکہ یہ جلسہ خالص مذہبی و دینی اور صرف آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے لئے مخصوص کیا گیا تھا جس میں استعمال کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی تھی اس لئے شرفار ملتان کی طرف سے ختم نہ ہے کے نام بنا و محافظوں کے اس فعل پر اظہار نفرت کیا گیا ہے جماعت احمدیہ لائل پور کا جلسہ سیرت النبی کمپنی باغ لائلپور میں منعقد ہو رہا جلسه سیرت النبی لا پلیور تھا جس کی اطلاع ایک روز پیشتر پولیس کو دے دی گئی تھی۔دو بچے جلسہ کا وقت تھا لیکن ڈیڑھ بجے کے قریب احراریوں نے شہر کے لوگوں کو اکٹھا کیا اور احمد یہ پنڈال کے قریب آکر اپنا اڈہ لگا دیا۔اس امر کی اطلاع فوراً پولیس کو کر دی گئی۔ابھی پولیس نہیں پہنچی تھی کہ یہ لوگ احمدیوں کے پنڈال میں گھس آئے اور کھڑے ہو کہ اعلان کیا کہ احمدیوں کا جلسہ ہر گز نہیں ہونے دیں گے۔یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت احمد یوں پر حملہ کر دیا۔گوسیاں اُٹھا کر احمدیوں پر پھینکنی شروع کر دیں اور سامان توڑنا شروع کر دیا۔احمدیوں نے بمشکل تمام اس حملے کو روکا۔اتنے میں پولیس انسپکڑ صاحب معہ دو تین سپاہیوں کے پہنچ گئے مگر حملہ آوروں نے ان سے بھی صاف کہہ دیا کہ وہ احمدیوں کا جلسہ ہر گز نہیں ہونے دیں گے اور پھر دوبارہ انسپکڑ کی موجودگی میں پنڈال پر حمد کر دیا جیسے احمدی رضا کاروں نے بمشکل تمام اد الفضل ۱۲۱ نبوت ۳۳۰، ہمش / نومبر ۱۹۵۱ء صنف :