تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 397 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 397

سیرت ، فضائل و برکات اور ارفع اور فقید المثال شان پر روشنی ڈالنے کے لئے جلسے مقرر تھے جو ایک با قاعدہ سوئی کبھی سکیم کے ساتھ ہنگامہ آرائی ، قانون شکنی، تشد د انگیزی اور غنڈہ گردی کی نذر کر دیئے گئے۔جماعت احمدیہ ملتان نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ کرنے کا مجله بر سر النبي ملتان انتظام پبلک جگہ بات لنگے میں کیا تھا۔ضلع کے ذمہ دار افسران جناب ڈی سی تعا حسین اور ایس پی صاحب ملتان کو جماعت کی طرف سے، ایک وفد نے قبل از وقت اطلاع کر کے اجازت حاصل کرنی تھی۔نیز جلسہ کے بجائے مقررہ پر انعقاد کا اعلان بذریعہ پوسٹر شہر بھر میں کر دیا گیا تھا پولیس کی کافی جمعیت قبل از وقت پہنچ گئی تھی۔بعد ازاں سٹی انسپکٹر صاحب، پراسیکیوٹنگ ڈی۔ایس پی صاحب اور دو سب انسپکٹر اور ڈیوٹی مجسٹریٹ صاحب بھی سلسہ شروع ہونے سے قبل پہنچ چکے تھے چنانچہ حسب اعلان ٹھیک دو بجے زیر صدارت مکرم مولوی احمد خان صاحب نسیم سابق مبلغ بڑا جلسہ کی کارروائی شروع کر دی گئی۔تلاوت و نظم کے بعد صدر صاحب نے اعلان کیا که دوران تقاریر میں جس وقت ہمارے آقا و مولا سیدنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے ہر شخص بلند آواز سے درود شریف پڑھتا ر ہے اور پہلی تقریر رحمۃ للعالمین کے موضوع پر مولوی عبد المحمود صاحب، مبشر مولوی فاضل شروع کریں۔اس کے بعد مولوی صاحب موصوف نے اس پاکیزہ موہانوں پر نہایت ادب و احترام کے جذبات سے محبت بھرے الفاظ میں ابھی چند تمہیدی کلمات ہی کہے تھے کہ احراریوں نے جو ایک خاص منصوبہ کے تحت پہلے ہی بھاری تعداد میں جمع ہو چکے تھے مقرر کی طرقت ایک رقعہ بھیجا جو ابھی صدر جلسہ تک پہنچا بھی نہیں ہوگا کہ یہ لوگہ، ہلہ کر کے جلسہ گاہ میں نشور مچانے لگے ہم جلسہ نہیں ہونے دیں گے پہلے ہماری باتوں کا جواب دو " سر ظفر اللہ مردہ باد مرزا محمود مردہ باد" مرزا غلام احمد مُردہ باد اس نعرہ بازی کے ساتھ ہی شامیانہ کے بانس اور کیلے اکھیڑ نے شروع کر دیئے۔دریاں کھینچنی شروع کر دیں اور احمدیوں سے دست و گریبان ہونے لگے اسی دوران میں پولیس کے جو آدمی پہلے دور بیٹھے ہوئے تھے شور و غوغات نکر پہنچے گئے اور بیچ بچاؤ ه حال ناظر اصلاح و ارشاد مقامی ربوه :