تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 399 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 399

م روکا۔احراریوں کو بے قابو دیکھے کہ اس اثناء میں انسپکڑا پولیس صاحب نے مزید جمعیت پولیس منگوائی احراریوں کا کثیر مجمع ہو چکا تھا جو مزید پولیس کے آنے پر کچھ تو منتشر ہو گیا اور باقی وہیں رہا۔ہاں بعد ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب اور سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس اور مجسٹریٹ صاحب موقع پر پہنچے اور انہوں نے یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔اس شور و شر کے دوران سلسہ کی کارروائی بند رہی اور پھر لاؤڈ سپیکر کے بغیر تقریر کی اجازتے ہو گئی اور سلسلہ احمدیہ کے ممتاز عالم مولانا ابو الحط اور صاحب نے سیرة النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تقریر فرمائی۔پولیس نے موقع پر دنوں کے قریب فتنہ پردازوں کو گرفتار کیا اور ۲۵ احمدی خلیے کے اندر سے گرفت ام شه کرلئے جو ۲ بجے شب عمانت پر رہا کر دیئے گئے۔یہ لیسہ ایک متر ز غیر احمدی دوست اور لائل پور کے سابق سرکاری وکیل چوہدری شریف احمد صاحب ایڈووکیٹ لائل پور کی صدارت میں ہوا جنہوں نے اخلاقی جرات سے کام نے کرمعزز سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب کو توجہ دلائی کہ احرار نے احمدیوں پر ظلم و تعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہلے باکانہ حملہ کیا ہے لیے در اصل ضلع لائل پور میں احمدیوں کے خلاف منظم حملہ اور اعلانیہ قانون شکنی کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے پیشتر مندرجہ ذیل واقعات حکومت اور پولیس کے نوٹس میں لائے جا چکے تھے:۔-۱- شوریدہ سروں نے اپنے اخبار میں اعلان کرنے کے بعد مولوی فضل دین صاحب بنگوی احمدی پر کارخانه با زائد لائل پور میں قاتلانہ حملہ کیا۔تھیلی ا۔ان کے صدر نے دھوبی گھاٹ کی گراؤنڈ میں نہایت اشتعال انگیز تقریر کی جس میں حضرت امام جماعت احمدیہ پر ناپاک جملے اور احمدیوں کے خلاف قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی تلقین کی۔۳- مولوی محمد اسمعیل صاحب مبلغ جماعت احمدیہ لائل پور پر بازار میں حملہ کیا گیا۔- مسجد احمدیه سمندری روز روشن میں نذر آتش کر دی گئی۔- ٹوبہ ٹیک سنگھ میں احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں جن میں ایک مخلص احمدی پیر محمد یوسف صاحب بی۔اے کے منملان قتل اور حملہ کرنے کی تلقین کی گئی۔۔اسی طرح آئے دن لائل پور کے اخبارات میں روز بروز من گھڑت جھوٹے فتنے چھاپ کر لوگوں لے فریقین کا چالان ہوا اور دو سال تک مقدمہ چلتارہا اور پھر یہ دونوں مقدمے حکومت نے واپس لے لئے الفضل ۲۰ نومبر ۱۹۵۱ء صفحه ۲ سے رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب صفحه ۲۹ - ۱۹۵۳ء