تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 368 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 368

۳۶۲ تحریک جدید کے قیام کی پیش گوئی تھی اور تحریک جدید کا قیام اسی پیش گوئی کے ذریعہ سے ۱۹۳۴ء سے نہیں بلکہ ۱۸۸۶ء سے ملتا ہے یعنی اڑتالیس سال پہلے سے خدا تعالٰی اس کی بنیا د قائم کر چکا تھا۔اور اگر اور گہرا غور کریں تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ در حقیقت ۱۳۴۸ سال پہلے تحریک تجدید کا قیام ہو چکا تھا کیونکہ اللّہ تعالیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ اس نے اسلام کو اس لئے بھیجا لیظھری على الدين کلمہ کہ تاکہ اسلام کو دنیا کے سب مذاہب پر غلبہ ہو جائے۔اور مختر بن لکھتے ہیں کہ جس زمانہ کے متعلق یہ شہر ہے وہ آخری زمانہ یعنی مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے۔پس تحریک جدید در حقیقت اسی پیش گوئی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہے اور ہر احمدی جو اس تحریک میں حصہ لیتا ہے اور پھر اپنے وعدہ کو پورا کرتا ہے اور وقت پر پورا کرتا ہے وہ لیظھر کا عَلَی الدِّینِ کلیہ ہے کی پیش گوئی کا مصداق ہے اور بہت بڑا خوش نصیب ہے کہ خاتم النبیین کی بعثت کی غرض کو پورا کرنے والوں میں شامل ہوتا ہے اور محمدی فوج کے سپاہیوں میں اس کا نام لکھا جاتا ہے۔اور بدقسمت ہے وہ جس کو اس کا موقع ملا اور وہ تحریک بدید میں شامل نہ ہوا۔راسی طرح بد قسمت ہے وہ جس نے منہ سے تو اس میں شامل ہونے کا اقرار کیا لیکن عملاً اس میں کمزوری دکھلائی۔پس اے عزیز و اتم احمدیوں میں سے کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اس تحریک میں شامل نہ ہو اور کوئی ایسانہ ہونا چاہیئے جو وعدہ کر کے اس میں کمزوری دکھائے بلکہ چاہیے کہ کوئی شریف الطبع اور نیک غیر احمدی بھی اس تحریک سے باہر نہ رہے خواہ ابھی اسے جماعت میں داخل ہونے کی جرات نہ ہوئی ہو ا ہے صوبہ سرحد میں دو احمدوں کی دردناک شہادت ارادیت ان کا اصل مرکز گرچه اول غیر می کا اصل پر پنجاب اور پھر بلوچستان تھا مگر اس سال اس کی چنگاریاں صوبہ سرحد کے کنارے تک بھی پہنچ گئیں اور مخالف علماء کی اشتعالی انگیز تقریروں نے علاقہ مانسہرہ کے سادہ مزاج عوام کے جذبات بھی احمدیوں کے خلاف بھڑ کا دینے جس کا تکلیف دہ نتیجہ امر تبوک ۱۳۳۰ هش رستمبر ۱۹۵۱ء کو یہ بر آمد ہوا کہ کوئٹہ، اوکاڑہ اور راولپنڈی کے بعد یہاں بھی دو مظلوموں کا خون بہایا گیا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک مخلص صحابی حضرت مولوی عبد الغفور صاحب اور ان کے سات سالہ معصوم بچے عبد اللطیف نہایت بے دردی سے شہید کر دیئے گئے۔مولوی صاحب موضع تمر کھو بہ ڈاک خانہ پر کنڈ تحصیل مانسہرہ کے باشند سے تھے۔وسنی برس کی عمر الصف ع له الفضل یکم افاء ۱۳۳۱ پیش کر اکتوبر ۱۹۵۲ء 4 سے اش ا