تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 369
سره سم میں قادیانی پہنچے اور ۱۹۰۶ء میں حضرت مهدی موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔آپ کو قادیان کی پیاری اور پرانوار و برکت لیستی سے اس قدر محبت و عقیدت پیدا ہوگئی کہ اپنے بڑے بھائی حضرت حکیم نظام جان صاحب کو بھی آنے کی تحریک کی جس پر حکیم صاحب ستقل ہجرت کر کے قادیانی بھی کے ہو گئے۔مولوی عبد الغفور صاحب کی قادیان میں ایک لاکھ روپے کی بجائداد زمین اور مکانات کی صورت میں تھی۔اس کے علاوہ دریائے سرن سے پار دو گاؤں مصر اور ماڑی میں بھی ایک لمبا سلسلہ آپ کی ملوک ارانی کا تھا جو آٹھ سو گھماؤں پر پھیلا ہوا تھا جس کا ایک سرا ضلع ہزارہ سے اور دوسرا سرا ریاست امب سے جاتا تھا۔اس کے علاوہ دریائے سرن کے کنارے آپ کی چھار پن چکیاں تھیں جن میں سے ایک کی حقیت آنچے لحق صدر انجین احمدیہ دیوہ کر دی تھی۔آپ کا معمول تھا کہ روزانہ اذان سے پہلے اٹھتے اور اپنے ملازم کو ہمراہ لے کر دریا سے پار چکیوں پر چلے جاتے تھے۔نماز فجر وہیں ادا کرتے اور اسی عرصہ میں اُن کا سات سالہ بچہ عبد اللطیف بھائے لیکر وہاں پہنچ جاتا دونوں ناشتہ کرتے اور زمین کی دیکھ بھال کے بعد اپنے گاؤں کوٹ آتے۔۳۱ تبوک /ستمبر کو بوقت صبح آٹھ بجے آپ اپنے تھے بچہ (عبد اللطیف) کو لے کر اپنے گھر سے بن چکیوں کی نگہداشت کے لئے نکلے۔آپ چار فرلانگ تک گئے تھے کہ ایک کمین گاہ سے آپ پر بندوق کا فائر کیا گیا جس کے بعد آپ کو اور آپ کے بچہ کو کلہاڑی سے شہید کر دیا گیا۔ظالم قاتل بھاگ گئے اور بے گوروکفن لاشوں کی نگرانی آپ کا گھر یلوگتا کرتا رہا جو بھی آپ کی لاش کی طرف بھاتا اور کبھی ان کے بچہ کی نعش کی طرف بھاگتا مولوی عبد الغفور صاحب نے اپنے پیچھے ایک بیوہ ، تین لڑکے اور تین لڑکیاں یادگار چھوڑیں لیے پاکستان کے دشمنوں نے محض اختلاف رائے نوابزادہ لیاقت علی خان کی مخالفت اور تا اکانت قتل یا به اختلال دو قتال داشتند کاجو کی پر و خونی چکر چلا رکھا تھا اور میں طرح اسلام کے نام پر عوام کی ذہنیت کو بدامنی اور شورنش کے لئے با قاعدہ تیار کیا جارہا تھا اس کا خمیازہ پاکستان کو اپنے محبوب قائد ملت نواب زادہ لیاقت علی خان سفاکانہ قتل لے آپکے تفصیلی واقعات اپنے مقام پر آئیں گے۔انشاء اللہ یہ کہ الفضل ۲۵ تبوک ۱۳۳۰ پیش مضمون حکیم عبد الواحد صاحب مانسهره) و الفضل ۴ار اضاء ۳۳۰ ایش ( مضمون حمید قریشی صاحب ابن حکیم نظام جان صاحب ) ؟