تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 357
۳۵۱ کے لئے پھر اس مالک میں آئے ہیں اور امید اے تے ہیں کہ آپ لوگ بھی ہم ارئے مشن سے وہی سلوک کریں گے ہو کہ آٹھویں صدی عیسوی کے سیکون بادشاہ نے مسلمانوں سے کیا تھا۔خدا تعالیٰ آپ کے دلوں کو۔۔۔ہدایت کے لئے کھول دے اور جس طرح ہم قدیم زمانہ میں بھائی بھائی تھے اس زمانہ میں بھی ہم بھائی بھائی ہو جائیں اور اس خطرناک زمانہ میں اپنے ملک و ملت کی حفاظت کے لئے دوش بدوش ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔اللهم آمین خاکسار (دستخط) مرزا محمود احمد خلیفة المسیح الثانی ا پہلی بار سیلوں کے مشرقی صوبہ میں جو مسلم اکثریت کی وجہ سے مشرقی صوبہ میں ذیلی شن کی بنیاد سینوں کا پاکستان کماتا ہے یکم امتار و پیش از اکتوبر 1900ء میں جماعت احمدیہ کا ایک ذیلی مشن قائم کیا گیا جس کے انچارج مولوی مد تیم صاحب تھے جماع احمد یہ سیلون نے اس مشن کے لئے اپنی بلڈ نگ خریدی۔۱۳۳۱ اہش / ۱۹۵۲ء میں سید نا حضرت المصلح الموعود سهیلی زبان میں سلسلہ احمدی اسیری را در بر ندارید و یا یہ انکشا کیا گیا کہ رضی اللہ بذریعہ ہمارے سلسلہ کا لٹریچرس نہایز زبان میں بھی شائع ہونا شروع ہو گیا ہے اور اس کے نتائج اچھے نکلیں گے یے حضور فرماتے ہیں :۔میں خواب میں کہتا ہوں کہ سنگھالیز زبان تو ہے یہ سنہا لیز کیوں لکھا ہے۔پھر میں سوچتا ہوں کہ سنہا نیز زبان کونسی ہے یا اے ۱۳۳۱ ایش/ ۱۹۵۲ء میں اگر چہ یہ زبان ملک میں بکثرت بولی بھاتی تھی لیکن اسے کوئی خاص اہمیت حاصل نہ تھی لیکن ۳۳۵ ہش / ۱۹۵۶ء میں حالات نے حیرت انگیز پلٹا کھایا اور نئی پارٹی "سری لنکا فریڈم پارٹی “ ( SRI LANKA FREEDOM PARTY) بر سر اقتدار آئی جس نے دو ماہ کے اندر سهیلی زبان کو واحد سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔اس وقت جماعت احمدیہ سیلون کے لئے اس زبان میں کتابیں شائع کرنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں تھا۔نہ روپیہ تھا نہ مترجم اور نہ اس خواب کی عملی تعبیر کے لئے کوئی ذرائع موجود تھے لیکن جلد ہی پردہ غیب سے ایسے سامان پیدا ہوگئے کہ مترجم بھی میسر آ گیا له الفضل به افتح ۱۳۳۱ ایش/ دسمبر ۱۹۵۲ء ص کالم :