تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 358 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 358

۳۵۲ اور ستملی لٹریچر کی اشاعت کے فنڈ بھی غیر احمدی دوستوں ہی نے فراہم کر دئیے اور پھر سنسلی لٹریچر بڑی کثرت سے چھپا اور ملک بھر میں خدائی خبر کے مطابق مقبول بھی بہت ہوا جو صداقت احمدیت کا ایک چمکتا ہوا نشان ہے۔مولوی محمد اسمعیل صاحب میر اس ایمان افروز نشان کی تفصیل میں فرماتے ہیں :۔"وہاں کے احمد یڈیشن کے پاس قطعاً ایسے وسائل موجود نہیں تھے کہ وہ اس زبان میں لٹریچر کی اشاعت کا انتظام کر سکتی و فعنہ خدائی تقدیر حرکت میں آئی اور نہایت غیر معمولی طور پر اس زبان میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت کا خود بخود انتظام ہو گیا اور وہ اس طرح کہ ابھی سہیلی کو سرکاری زبان کا درجہ ملے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک معزز شخص ڈاکٹر اے سی۔ایم سلیمان صاحب A۔C۔M (SALAIMAN جن کے نام سے بھی کیں واقعت نہ تھا موٹر کار میں احمدیہ شن ہاؤس تشریف لائے اور انہوں آتے ہی یہ سوال کیا کہ آپ لوگ سنہلی میں اسلامی لٹریچر کیوں شائع نہیں کرتے ، میں نے مالی اور بعض دوسری مشکلات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا آپ مجھے کوئی کتاب دیں لیکن اس کا سنہالی زبان ہیں ترجمہ کرنے کا انتظام کرتا ہوں۔چنانچہ میں نے انہیں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر سلسلہ کی ایک کتاب دے دی جس کا نام LIFE AND TEACHINGS OF H۔P۔MOHAMMAD تھا ہفتہ عشرہ کے بعد جب وہ دوبارہ آئے تو کتاب کا ترجمہ اور طبع شدہ پروف ساتھ لے کر آئے۔چنانچہ چند یوم میں نظر ثانی کے بعد انہوں نے وہ کتاب پانچ ہزار کی تعداد میں چھپوا دی۔اس کے بعد انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معركة الآراء تصنیف اسلامی اصول کی فلاسفی دی گئی۔اسے بھی انہوں نے بعد ترجمہ نہایت قلیل مدت میں پانچ ہزار کی تعداد میں چھپوانے کا انتظام کر دیا۔چونکہ اس وقت حکومت سنہالی کو خاص اہمیت دے رہی تھی راس لئے خود وزیر اعظم نے اس زبان میں اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا بیتی کہ انہوں نے ہماری درخواست پر اس کتاب کے ساتھ اشاعت کے لئے بخوشی اپنا ایک پیغام بھی بھیجوا دیا چنا نچہ وہ پیغام بھی کتاب کے ساتھ شائع ہوا۔کتاب کی طباعت کے بعد اس کی اشاعت کا آغاز ایک خاص تقریب میں کیا گیا جس میں بعض وزراء اور حکومت کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے سیکھے له وزیر اعظم مسیلون (WORD - RD - BANDARANAI KE۔عدم نے اس تقریب پر ایک خصوصی پیغام دیا جس ) میں کہا " بدھسٹ اور سنیلیز ہونے کے لحاظ سے میں اس کتاب " ISLAM DHARMAYA " کے لئے مختصر پیغام بھیجنے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔اس ملک کی تاریخ کے اس اہم دور میں سنہالی زبان میں (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )