تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 356
۳۵۰ صاحب تیر نے اپنی ایک الماری اور بہت سی کتابیں بطور عطیہ دیں۔اس دور میں جماعت احمدیہ سیلون کا پورا انگریزی اخبار دی میسیج " THE) دی بسیج کا احیاء (MESSAGE جو ۱۳۷۲ مش / ۱۱۹۴۳ سے بند ہو چکا تھا دوبارہ پوری آب و تاب کے ساتھ ماہ ظہور ۳۳۴ پیش / اگست ۱۹۵۵ء سے نکلنا شروع ہوا۔یہ انگریزی و تاتل اخبار سیلون کے علاوہ جنوبی ہند، بورنیو ، برما اور بلایا میں بھی بھیجا جاتا تھا۔اور تعلیمیافتہ مسلم اور بغیر مسلم حلقوں میں بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔ماہ صلح ۱۳۳۶ پیش / جنوری ۱۹۵۷ء میں اس اخبار کے سنہلی ایڈیشن کا بھی اجراء کیا گیا۔اس زبان میں یہ پہلا اسلامی اخبار تھا اور اس کی اشاعت پر سنہالی پر لیس نے قابل قدر تبصرے کئے پینسلی ایڈیشن کے پہلے پر بچہ میں حضرت مصلح موعود کی شبیہہ مبارک کے ساتھ حضور کا حسب ذیل افتتها می مضمون اشاعت پذیر ہوا :- اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم و نحمده ونصلى على رسوله الكريم هو الن خدا کے فضل اور رحم کیسا تھ سامر سنهایز برادران جماعت احمدیہ کا سنہالی رسالہ نکل رہا ہے اور اس کے لئے تمہیدی نوٹ یکی لکھ رہا ہوں۔لیکن آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ سیلوں کے ساتھ مسلمانوں کا تعلق آج کا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔کیمرج ہسٹری آف انڈیا میں لکھا ہے کہ سیلون کے بادشاہ نے حجاج کو جو امیہ خلافت کی طرف سے مشرقی صوبہ کا گورنر تھا ان مسلمانوں کے بتا ملی بھجوائے جو کہ سیلون کے بادشاہ کے علاقہ میں فوت ہوئے تھے۔اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایک غیر مصدقہ روایت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیلون کا بادشاہ خود بھی مسلمان ہو گیا تھا اور امیر خلیفہ کو بار بھیجا کرتا تھا۔ہند وستان پر محمد بن قاسم کے حملہ کی وجہ بھی یہی تھی کہ بیلون کے بادشاہ نے جو مسلمان بیت ملی خلیفہ اسلام کو بھجوائے تھے ان پر سندھ کے ساحل کے قریب کچھ ہندو ڈاکوؤں نے محملہ کر کے انہیں گرفتار کر لیا تھا انہیں کے بچانے کے لئے محمد بن قاسم سندھ پر حملہ آور ہوئے تھے اور یہی بنیا د عالم اسلام اور ہندوستان میں جنگ کی تھی۔پس قدیم سیلون سے مسلمانوں کا ایک ہزار سال سے زائد ناقل) کا تعلق ہے ہم اس تعلق کو زیادہ کرنے