تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 328
۳۲۲ ا ٹوٹ لیا گیا سندھ میں ان دنوں راجہ داہر کی حکومت تھی۔جب اس قافلہ کے ٹوٹ جانے کی خبر مشہور ہوئی تو گورنر عراق کا والی مکران کو محکم پہنچا کہ ہمارے پاس یہ خبر پہنچی ہے کہ مسلمانوں کا ایک قافلہ جو سیلون سے چھلا تھا وہ سندھ میں لوٹا گیا اور مسلمان مرد اور عورتیں قید ہیں تم اس واقعہ کی تحقیق کر کے ہمیں اطلاع دور والی مکران نے راجہ داہر سے دریافت کیا تو اس نے اس واقعہ سے انکار کر دیا مسلمان چونکه خود را استباز تھے اس لئے وہ سمجھتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی سچ بولتے ہیں۔جب راجہ داہر نے انکار کر دیا تو انہوں نے بھی مان لیا کہ یہ بات سچ ہو گی کچھ عرصہ کے بعد ایک اور قافلہ انہوں نے اسی طرح گوٹا اور ان میں سے بھی کچھ عورتیں انہوں نے قید کیں۔ان عورتوں میں سے ایک عورت نے کسی طرح ایک مسلمان کوجو قید نہیں ہوا تھا یا قید ہونے کے بعد کسی طرح رہا ہو گیا تھا، کہا کہ میرا پیغام مسلمان قوم کو پہنچا دو کہ ہم یہاں قید ہیں اور مسلمان حکومت کا فرض ہے کہ وہ ہم کو بچائے۔اس وقت خلیفہ بنو امیہ افریقہ پر چڑھائی کی تجویزیں کر رہا تھا اور سپین فتح کرنے کی سکیم بن رہی تھی اور تمام علاقوں میں یہ احکام بھاری ہو چکے تھے کہ جتنی فوج میسر آسکے وہ افریقہ کے لئے بھجوا دی جائے۔اُس وقت وہ پیغا مہر پہنچا اور اس نے عراق کے گورنر کو جو حجاج نامی تھا اور جو سخت بد نام تھا یہ پیغام پہنچایا۔اس میں بد نامی کی بھی باتیں ہوں گی مگر اس جیسا نڈر، بہادر اور اسلام کے لئے قربانی کرنے والا آدمی بھی اس زمانہ میں ہمیں شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔آنے والے نے حجاج سے کہا کہ میں سندھ سے آیا ہوں وہاں بیکے بعد دیگر نے دو مسلمان قافلے لوٹے گئے اور کئی مسلمان قید ہیں۔راجہ داہر نے گورنر مکران سے یہ بالکل جھوٹ کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔حجاج نے کہا ئیں کس طرح مان لوں کہ تم جو کچھ کہ رہتے ہو درست کہہ رہے ہود ہر بات کی دلیل ہوتی چا ہئے بغیر کسی دلیل کے ہیں تمہاری بات نہیں مان سکتا۔اس نے کہا آپ مانیں ! نہ مانیں واقعہ یہی ہے کہ وہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔حجاج نے کہا اول تو تمہاری بات پر یقین کر نیکی کوئی و بعد نہیں ہم نے گورنر مکران کو لکھا اور اس نے جو جواب دیا وہ تمہارے اس بیان کے خلاف ہے دوسرے تمہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ خلیفہ وقت کا حکم ہے کہ جتنی فوج میسر ہوا فریقہ بھیج دو پس راس وقت ہم اپنی فوجوں کو کسی اور طرف نہیں بھیج سکتے۔غرض اس نے ہر طرح سمجھا یا مگر جارج پر کوئی اثر نہ ہوا اور اس نے کہا میرے حالات اس قسم کے نہیں کہ یک اس طرف توجہ کر سکوں۔جب وہ ہر طرح دلائل دے کر تھک گیا تو اس نے کہا میرے پاس آپ کے لئے اور خلیفہ وقت کے لئے ایک پیغام بھی ہے۔بجاج