تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 327
۳۲۱ بھی باہر تشریف لائیں لیں آپ کی باتیں سن سکوں کچھ دن تو میرا بھائی مجھے روٹی پہنچاتا رہا مگر آخر اس نے روٹی پہنچانی چھوڑ دی اور مجھے فاقے آنے لگے بعض دفعہ سات سات وقت کا فاقہ ہو جاتا تھا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے لیکن بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا۔لوگ یہ سمجھتے کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے۔اور عربوں ہیں یہ رواج تھا کہ جب کسی کو مرگی کا دورہ ہوتا تو وہ اس کے سر پر جوتیاں مارا کہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ مرگی کا علاج ہے۔جب میں بے ہوش ہوتا تو میرے سر پر بھی وہ جوتیاں مارنی شروع کر دیتے حالانکہ یکی بھوک کی شدت کی وجہ سے بے ہوش ہوتا تھا۔اب کجا وہ حالت اور کجا یہ بحالت که ایران کا ختنہ انہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور اموال تقسیم ہوئے تو وہ رومال جو شاہ ایران تخت پر بیٹھتے وقت اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا وہ میرے حصہ میں آیا۔مگر ایران کا بادشاہ تو آرائش کے لئے اس رو مال کو اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا اور میرے نزدیک اس رومال کی صرف اتنی قیمت ہے کہ میں اس میں اپنا عظیم تھوک رہا ہوں۔سوائے تاریخ کے کونسی چیز ہے جو تمہیں اپنے آباء کے ان حالات سے واقف کر سکتی ہے اور تمہیں بتا سکتی ہے کہ تم کیا تھے اور اب کیا ہو۔کسی ملک میں مسلمان عورت نکل جاتی تھی تو لوگوں کی مجال تک نہیں ہوتی تھی کہ وہ اس کی طرف اپنی آنکھ اُٹھا سکیں آج کل ربوہ کی گلیوں میں احمدی عورتیں پھرتی ہیں تو ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو باہر کا کوئی اوباش یہاں آیا ہوا ہو اور وہ کوئی شرارت کر دے لیکن ایک وہ زمانہ گذرا ہے کہ مسلمان عورتیں دنیا کے گوشے گوشے میں جاتیں اکیلے اور تن تنہا جاتیں اور کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ ان کی طرف ترچھی نگاہ سے دیکھ سکے اور اگر کبھی کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا تو وہ اس کا ایسا خمیازہ بھگتا کہ نسلوں نسل تک اس کی اولاد ناک رگڑتی چلی جاتی۔مسلمان اپنے ابتدائی دور میں ہی دنیا میں پھیل گئے تھے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ابھی اسی نوے سال ہی گذرے تھے کہ وہ چین اور ملایا اور سیلون اور ہندوستان کے مختلف گوشوں میں پھیل گئے۔ادھر وہ افریقہ کے مغربی ساحلوں تک چلے گئے تھے اور ان کی لہریں یورپ کے پہاڑوں سے ٹکرا رہی تھیں۔اس ابتدائی دور میں مسلمانوں کا ایک قافلہ جس کو سیلون کے بدہ بادشاہ نے خلیفہ وقت کے لئے کچھ تحائف بھی دئے تھے سیلون سے روانہ ہوا اور اُسے سندھ ہیں