تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 326 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 326

۳۲۰ کر لیا تمہارا یہ خیال ہے کہ ہم ولوؤں کے لئے نکلے ہیں مگر ہم رو پوؤں کے لئے نہیں نکلے تمہاری قوم نے ہم سے جنگ شروع کی ہے اور اب ہماری تلواریں تبھی نیام میں جائیں گی جب یا تو کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو جاؤ گے اور یا پھر مسلمانوں کے باجگزار ہو جاؤ گے اور ہمیں جزیہ ادا کر و گے۔ایران کا بادشاہ جو اپنے آپ کو نصف دنیا کا بادشاہ سمجھتا تھا وہ اس جواب کو شنکر برداشت نہ کر سکا۔اُسے غصہ آیا۔اس نے چو ہدار سے کہا جاؤ اور ایک بوری میں مٹی ڈال کر لے آؤ۔وہ بوری میں مٹی ڈال کر لے آیا تو اس نے کہا یہ بوری اس مسلمان سردار کے سر پر رکھ دو اور اسے کہ دو کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں اور سوائے اس مٹی کے تمہیں کچھ اور دینے کے لئے تیار نہیں۔وہ مسلمان افسر جس کی گردن ایران کے بادشاہ کے سامنے نہیں تھکی تھی اس موقع پر اُس نے فوراً اپنی گردن جھکا دی پیٹھ پر پوری رکھی اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بھاؤ با دشاہ نے خود ایران کی زمین ہمارے سپرد کر دی ہے مشرک تو وہی ہوتا ہے بادشاہ نے یہ سنا تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ان لوگوں کو جلدی پڑو مگر وہ اس وقت تک دُور نکل چکے تھے انہوں نے کہا اب یہ پکڑی بھانے والی مخلوق نہیں ہے۔پھر وہی بادشاہ جس نے یہ کہا تھا کہ میں تمہارے سروں پر خاک ڈالتا ہوں وہ میدان چھوڑ کر بھاگا۔پھر ملک چھوڑ کر بھاگا اور شمالی پہاڑیوں میں جا کر پناہ گزین ہو گیا اور اس کے قلعے اور محلات اور خزانے سارے کے سارے مسلمانوں کے قبضہ میں آگئے۔ابو ہریرہ وہ غریب ابو ہریرہ ہے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سارا دن بیٹھے رہنے کے خیال سے کوئی گزارہ کی صورت پیدا نہیں کرتا تھا اور جسے بعض دفعہ کئی کئی دن کے فاقے ہو جایا کرتے تھے ایک دفعہ وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہیں کھانسی اٹھی انہوں نے اپنی جیب میں سے رومال نکالا اور اس میں بلغم تھوکا اور پھرکا کی بیخ ابوہریرہ یعنی واہ واہ ابو ہریرہ کبھی تو تو فاقوں سے بہیوش ہو جایا کرتا تھا اور آج تو کسری کے اُس رومال میں تھوک رہا ہے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھتے وقت اپنی شان دکھانے کے لئے خاص طور پر اپنے ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔لوگوں نے کہا۔یہ کیا بات ہے۔انہوں نے کہا میں آخری زمانہ میں مسلمان ہوا تھا ئیں نے اس خیال سے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی باتیں لوگوں نے بہت کچھ سن لی ہیں اور اب میرے لئے بہت تھوڑا زمانہ باقی ہے یہ عہد کر لیا کہ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دروازہ سے نہیں ہوں گا سارا دن مسجد میں ہی رہوں گا تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب