تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 325
٣١٩ عیش اور تنعم کا ہرقسم کا سامان اس کے ساتھ تھا۔نہایت قیمتی قالین بچھے ہوئے تھے۔نہایت اعلی درجہ کے کا وچ اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں اور بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمان سپاہی آپہنچے سپاہیوں کے پاؤں میں آدھے چھلے ہوئے چھڑے کی پوتیاں تھیں جو مٹی سے آئی ہوئی تھیں اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے جس وقت وہ دروازے پر پہنچے چو ہدار نے آواز دی کہ بادشاہ سلامت کی حضوری میں تم حاضر ہوئے ہو اپنے آپ کو ٹھیک کرو۔پھر اس نے مسلمان افسر سے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی قسم کے قیمتی قالین بچھے ہوئے ہیں تم نے اپنے ہاتھوں میں نیزے اٹھائے ہوئے ہیں ان نیزوں سمیت قالینوں پر سے گذرو گے تو ان کو نقصان پہنچے گا۔اس مسلمان افسر نے کہا تمہارے بادشاہ نے ہم کو بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے اگر ملنے کی احتیاج ہے تو اس کو ہے ہمیں نہیں، اسے اگر اپنے قالینوں کا خیال ہے تو اسے کہہ دو کہ وہ اپنے قالین اٹھالے ہم جوتیاں اتارنے یا نیزے اپنے ہاتھ سے رکھنے کے لئے تیار نہیں۔اُس نے بہتیرا پروٹسٹ کیا اور کہا کہ اندر نہایت قیمتی فرش ہے جوتیاں اُتار دو اور نیزے رکھ دو مگر انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا اس نے ہم کو بلایا ہے ہم اپنی مرضی سے اس سے ملنے کے لئے نہیں آئے۔غرض اسی حالت نہیں وہ اندر پہنچے۔وہاں تو بڑے سے بڑا جرنیل اور وزیر بھی زمین بوس ہوتا اور بادشاہ کے سامنے سجدہ کرتا تھا مگر یہ تنی ہوئی چھاتیوں اور اُٹھی ہوئی گردنوں کے ساتھ وہاں پہنچے بادشاہ کو سلام کیا اور پھر اس سے پوچھا کہ بادشاہ تم نے ہمیں کیوں بلایا ہے ؟ بادشاہ نے کہا تمہارا ملک نہایت جاہل ، پیست، درماندہ اور مالی تنگی کا شکار ہے اور پھر عرب وہ قوم ہے کہ جو گوہ تک ( ایک ادنی جانور ہے) کھاتی ہے وہ عمدہ کھانوں سے نا آشنا ہے، عمدہ لباس سے نا آشنا ہے اور بھوک اور افلاس نے اسے پریشان کر رکھا ہے معلوم ہوتا ہے اس تنگی اور قحط کی وجہ سے تمہارے ولوں میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ ہم دوسرے ملکوں میں جائیں اور اُن کو ٹوٹیں ہیں تمہارے سامنے تمہاری این تکلیف کو دیکھتے ہوئے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ تمہارا جتنا لشکر ہے اس میں سے ہر سپاہی کو ایک ایک اشرفی اور ہر افسر کو دو دو اشرفیاں دے دوں گا تم یہ روپیہ لو اور اپنے ملک میں واپس چلے جاؤ مسلمان کما نڈر نے کہا اسے بادشاہ یہ جو تم کہتے ہو کہ ہماری قوم گوہ تک کھانے والی تھی اور ہم غربت اور ناداری میں اپنے ایام بسر کر رہے تھے یہ بالکل درست ہے ایسا ہی تھا مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا خدا تعالیٰ نے ہم ہیں، اپنا ایک رسول بھیجا اور اس نے ہم کو خدا تعالی کا پیغام پہنچایا اور ہم نے اسے قبول